| نور والا آیا ہے |
اے خدائے دو جہاں تیرا بڑا اِحسان ہے تو نے پیدا اُن کی اُمّت میں ہمیں فرمایا ہے نور والے ہم گنہگاروں کے گھر بھی روشنی آ کے کر دو، نور تم نے ہر جگہ پھیلایا ہے اپناجانا اور ہے اُن کا بُلانا اور ہے خوش نصیبی اُن کی جن کو شاہ نے بُلوایا ہے مجھ کو ڈھارس ہے غلامِ سیِّدِ اَبرار ہوں ماسِوا پلّے میں میرے کچھ نہیں سرمایہ ہے نور والے! اب خدارا مسکراتے آیئے روشنی ہو قبر میں ہائے! اندھیرا چھایا ہے سن لے شیطاں تُو دبا سکتا نہیں عطّارؔ کو دوجہاں میں اِس پہ میٹھے مصطَفٰے کا سایہ ہے