| نور والا آیا ہے |
ذرَّہ ذرَّہ جگمگایا ہر طرف آیا نکھار گویا ساری ہی فضا کو نور میں نَہلایا ہے نور والے کے رُخِ روشن کی بھی کیا بات ہے چِہرۂ انور کے آگے چاند بھی شرمایا ہے چھت پہ کعبے کی اُتَر کر حکمِ ربِّ پاک سے حضرتِ جِبریل نے جھنڈا وہاں لہرایا ہے چار سُو چھائی ہوئی تھیں کُفر کی تاریکیاں تم نے آ کر نور سے سَنسار کو چمکایا ہے چاند کی جوں ہی ربیعُ النّور کے آئی خبر اہلِ ایماں جھوم اُٹھے شیطاں کو غصّہ آیاہے جب اندھیرے گھر میں آئے نور سے گھر بھر گیا گمشدہ سُوئی کو بی بی عائشہ نے پایا ہے