Brailvi Books

نور والا آیا ہے
11 - 24
نور والا آیا ہے ہاں نور لیکر آیا ہے
(یہ کلامِ نور۱۹ ربیع النور۱۴۳۲ کو موزوں کیا)
                                                                 نور والا آیا ہے ہاں نور لیکر آیا ہے۱؎
                                                               سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نو ر چھایا ہے
چار جانِب روشنی  ہے سب سماں ہے نور نور
حق نے پیدا آج اپنے پیارے کو فرمایا ہے
                                                                آؤ آؤ نور کی خیرات لینے کو چلیں
                                                                نور والا آمِنہ بی بی کے گھر میں آیا ہے
				اس طرف بھی اُس طرف بھی ہر طرف ہی نور ہے
آ گیا ہے نور والا، نور والا آیاہے
                                                               ہو رہی ہیں چار جانب بارشیں انوار کی 
                                                               چھا گئی  نَکہَت  گُلوں پر ہر شَجَر اِٹھلایا ہے
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
     ۱؎   کسی نامعلوم شاعر کاہے۔