Brailvi Books

نور والا آیا ہے
10 - 24
بہرِ غوث اَمنِ روزِ جزا کی	میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
مغفرت کر بروزِ قِیامت 	تُو کرم کر عطا کر عنایت
خُلد میں قُربِ خیرالورٰی کی	میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
بارہ مہ کے مسافِر بنے ہیں	یاجو ’’وقفِ ۱؎مدینہ  ‘‘ ہوئے ہیں
اُن کو عشقِ شہِ دو۲ سَرا	میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
وہ بچارے کہ بیمار ہیں جو	جِنّ و جادو سے بیزار ہیں جو
اپنی رحمت سے اُن کو شِفا کی	میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
وہ کہ آفات میں مبتَلا ہیں	جو  گرفتارِ  رنج و بلا ہیں
فضل سے اُن کو صبر و رِضا کی	میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
لا دوا کہہ چکے سب طبیب اب	دم لبوں پر ہے ربِّ مُجیب اب
جلوۂ شاہِ ارض وسَما کی	میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
قبر تیرے کرم سے بنے گی	باغ، رَحمت کی چادر تنے گی
روزِ محشر بھی لطف و عطا کی	میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
روح، عطارؔ کی جب جدا ہو	سامنے جلوۂ مصطَفٰے ہو
اُنکے قدموںمیں اِس کوقضا کی	میرے مولیٰ تو خیرات دیدے
  مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
   ۱؎  ایسے بے شمارعاشقِ رسول ہیں جنہوں نے دین کے مَدَنی کاموں کی خاطِر اپنے آپ کو عمر بھر کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی مرکز کے حوالے کر دیا ہے۔ ایسے خوش نصیبوں کو دعوتِ اسلامی کی اِصطِلاح میں’’ وقفِ مدینہ‘‘ کہتے ہیں۔