Brailvi Books

نصاب التجوید
64 - 79
سبق نمبر ۲۰ 

لحن کا بیان
لغوی معنیٰ : غلطی ، لب ولہجہ

اصطلاحی معنیٰ : اصطلاح قراء میں لحن سے مراد تجوید کے خلاف پڑھنا، قراء ت سبعہ وعشرہ سے الگ ہوجانا، عربوں کے لہجے سے ہٹ جانا۔

لحن کی اقسام 

    لحن کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں ۔

    ۱۔لحنِ جلی             ۲۔ لحنِ خفی 

(۱)لحنِ جلی:(کھلی غلطی ) بڑی اورظاہر غلطی کو کہتے ہیں ۔

حکم : اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی بزازیہ کے حوالے سے فرماتے ہیں '' ان اللّحن حرام بلاخلاف'' یعنی بے شک لحنِ جلی حرام ہے اِس میں کسی کواختلاف نہیں۔ (فتاوٰی رضویہ ص۲۶۲ ج۶ مطبوعہ رضا فاؤنڈیش مرکز الاولیاء لاہور)

لحن جلی کی صورتیں :

۱۔ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدل دینا مثلاً اَلْحَمْدُ کو اَلْھَمْدُ پڑھنا 

۲۔ساکن کو متحرک یا متحرک کو ساکن پڑھنا خَلَقْنَاکو خَلَقَنَا پڑھنا(ساکن کو متحرک ) خَتَمَ اللہُ کو خَتْمَ اللہُ پڑھنا (متحرک کو ساکن )

۳۔حرکت کو حرکت سے بدل دینا اَنْعَمْتَ کو اَ نْعَمْتُ پڑھنا

۴۔کسی حرف کو بڑھا دینا یا گھٹا دینا فَعَلَ کو فَعَلاَ پڑھنا (بڑھانا)لَمْ یُوْلَدْکو لَمْ یُلَدْ پڑھنا (گھٹانا)
Flag Counter