(اِن شاء اللہ تعالیٰ عنقریب ان کی تفصیلات آرہی ہیں۔ ت) پھر درجہ ہفتم میں مرتبہ مطروح ہے جس کا مدار وضاع ،کذّاب یا متہم بالکذب پر ہو، یہ بدترین اقسام ہے بلکہ بعض محاورات کے رُو سے مطلقاً اور ایک اصطلاح پر اس کی نوعِ اشد یعنی جس کا مدار کذب پر ہو عینِ موضوع، یا نظرِ تدقیق میں یوں کہے کہ ان اطلاقات پر داخل موضوع حکمی ہے۔ان سب کے بعد درجہ موضوع کاہے،یہ بالاجماع نہ قابلِ انجبار،نہ فضائل وغیرہا کسی باب میں لائقِ اعتبار، بلکہ اُسے حدیث کہنا ہی توّسع وتجوّز ہے،حقیقۃً حدیث نہیں محض مجعول وافترا ہے،
والعِیَاذُ بِاللہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔ وَسَیُرَّدُّ عَلَیْکَ تَفَاصِیْلُ جَلِّ ذٰلِکَ اِنْ شَاءَ اللہُ الْعَلِيُّ الْاَعْلٰی
(اس کی روشن تفاصیل ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کے لئے بیان کی جائیں گی۔ ت)طالبِ تحقیق ان چند حرفوں کو یاد رکھے کہ باوصفِ وجازت ،محصل وملخصِ علمِ کثیر ہیں اور شاید اس تحریرِ نفیس کے ساتھ ان سطور کے غیر میں کم ملیں،
وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ وَالْمَنَّۃُ.
(فتاوی رضویہ، ج۵، ص۴۴۰)