Brailvi Books

نصاب اصول حديث مع افاداتِ رضویہ
94 - 95
جگہ صحت حدیث میں کلام کرکے اسے پایہ قبول سے ساقط کرنا فرق مراتب نہ جاننے سے ناشی،جیسے بعض جاہل بول اُٹھے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں،یہ اُن کی نادانی ہے علمائے محدثین اپنی اصطلاح پر کلام فرماتے ہیں، یہ بے سمجھے خدا جانے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں، عزیز ومسلم کہ صحت نہیں پھر حسن کیا کم ہے، حسن بھی نہ سہی یہاں ضعیف بھی مستحکم ہے۔                فتاوی رضویہ ، (ج۵، ص۴۷۷) 

٭۔۔۔۔۔۔صحیح وموضوع دونوں ابتداء وانتہاء کے کناروں پر واقع ہیں،سب سے اعلیٰ صحیح اور سب سے بدتر موضوع، اور وسط میں بہت اقسامِ حدیث ہیں درجہ بدرجہ،(حدیث کے مراتب اور اُن کے احکام) مرتبہ صحیح کے بعد حسن لذاتہٖ بلکہ صحیح لغیرہ پھر حسن لذاتہ، پھر حسن لغیرہ، پھر ضعیف بضعف قریب اس حد تک کہ صلاحیتِ اعتبار باقی رکھے جیسے اختلاطِ راوی یا سُوء ِ حفظ یا تدلیس وغیرہا، اوّل کے تین بلکہ چاروں قسم کو ایک مذہب پر اسمِ ثبوت متناول ہے اور وہ سب محتج بہاہیں اور آخر کی قسم صالح،یہ متابعات وشواہد میں کام آتی ہے اور جابر سے قوّت پاکر حسن لغیرہ بلکہ صحیح لغیرہ ہوجاتی ہے،اُس وقت وہ صلاحیتِ احتجاج وقبول فی الاحکام کا زیور گرانبہاپہنتی ہے، ورنہ دربارہ فضائل تو آپ ہی مقبول وتنہا کافی ہے، پھر درجہ ششم میں ضعفِ قوی ووہنِ شدید ہے جیسے راوی کے فسق وغیرہ قوادحِ قویہ کے سبب متروک ہونا، بشرطیکہ ہنوز سرحدِ کذب سے جُدائی ہو،یہ حدیث احکام میں احتجاج درکنار اعتبار کے بھی لائق نہیں، ہاں فضائل میں مذہب راجح پر مطلقاً اور بعض کے طور پر بعد ِانجبار بتعدد ِ