| نصاب اصول حديث مع افاداتِ رضویہ |
درجہ قوت پر ہوتی ہیں کہ جب تک حدیثِ مشہور، متواتر نہ ہو اُس کا ثبوت نہیں دے سکتے ،اَحاد اگرچہ کیسے ہی قوتِ سند ونہایتِ صحت پر ہوں اُن کے معاملہ میں کام نہیں دیتیں۔(عقائد میں حدیث احاد اگرچہ صحیح ہو کافی نہیں)یہ اصولِ عقائد ِاسلامیہ ہیں جن میں خاص یقین درکار، علامہ تفتازانی رحمہ اللہ تعالیٰ شرح عقائد ِنسفی میں فرماتے ہیں:
خَبْرُ الْوَاحدِ عَلٰی تَقْدِیْرِ اشْتِمَالِہٖ عَلٰی جَمِیْعِ الشَّرَائِطِ الْمَذْکُوْرَۃِ فِیْ اُصُوْلِ الْفِقْہِ لَایُفِیْدُ اِلاَّ الظَّنَّ وَلَاعِبْرَۃَ بِالظَّنِّ فِیْ َبابِ الْاِعْتِقَادَاتِ۔
(حدیثِ احاد اگرچہ تمام شرائط ِصحت کی جامع ہو ظن ہی کا فائدہ دیتی ہے اور معاملہ اعتقادمیں ظنیات کاکچھ اعتبار نہیں)
مولاناعلی قاری منح الروض الازہر میں فرماتے ہیں:اَلاْحَادُ لاَ تُفِیْدُ اْلاِعْتِمَادَ فِی اْلاِعْتِقَادِ
(احادیث احاد دربارہ اعتقاد ناقابلِ اعتماد) (دربارہ احکام ضعیف کافی نہیں)دوسرا درجہ احکام کا ہے کہ اُن کے لئے اگرچہ اُتنی قوت درکار نہیں پھر بھی حدیث کا صحیح لذاتہ خواہ لغیرہ یا حسن لذاتہ یا کم سے کم لغیرہ ہونا چاہے، جمہور علماء یہاں ضعیف حدیث نہیں سنتے۔ (فضائل ومناقب میں باتفاق علماء حدیثِ ضعیف مقبول وکافی ہے)تیسرا مرتبہ فضائل ومناقب کا ہے یہاں باتفاقِ علماء ضعیف حدیث بھی کافی ہے،مثلاً کسی حدیث میں ایک عمل کی ترغیب آئی کہ جو ایسا کریگااتنا ثواب پائے گایاکسی نبی یاصحابی کی خُوبی بیان ہوئی کہ اُنہیں اللہ عزوجل نے یہ مرتبہ بخشا،یہ فضل عطا کیا، تو ان کے مان لینے کوضعیف حدیث بھی بہت ہے،ایسی