Brailvi Books

نصاب اصول حديث مع افاداتِ رضویہ
92 - 95
ارشاد میں تصریح کی ہے۔ت)یونہی نواصب نے مناقبِ امیرِ معٰویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں حدیثیں گھڑیں
کَمَاأَرْشَدَ اِلَیْہِ الْاِمَامُ الذَّابُّ عَنِ السُّنَّۃِ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَہُ اللہُ تَعَالٰی
(جیسا کہ اس کی طرف امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی جو سنّت کا دفاع کرنے والے ہیں۔ ت) (۱۳)یا قرائن ِحالیہ گواہی دے رہے ہوں کہ یہ روایت اس شخص نے کسی طمع سے یاغضب وغیرہما کے باعث ابھی گھڑکر پیش کردی ہے جیسے حدیث ِسبق میں زیادتِ جناح اورحدیثِ ذمِ معلمین اَطفال۔(۱۴)یا تمام کتب وتصانیفِ اسلامیہ میں استقرائے تام کیاجائے اور اس کاکہیں پتانہ چلے یہ صرف اَجلہ حفاظ ائمہ شان کاکام تھاجس کی لیاقت صدہاسال سے معدوم۔ (۱۵)یاراوی خود اقرارِ وضع کردے خواہ صراحۃً ،خواہ ایسی بات کہے جو بمنزلہ ئاقرار ہو،مثلاً ایک شیخ سے بلاواسطہ بدعوی سماع روایت کرے ، پھراُس کی تاریخِ وفات وہ بتائے کہ اُس کااس سے سننامعقول نہ ہو۔

یہ پندرہ باتیں ہیں کہ شاید اس جمع وتلخیص کے ساتھ ان سطور کے سوانہ ملیں۔
 وَلَوْبَسَطْنَا الْمَقَالَ عَلٰی کُلِّ صُوْرَۃٍ لَطَالَ الْکَلَامُ وَتَقَاصَی الْمَرَامُ، وَلَسْنَاھُنَالِکَ بِصَدَدِ ذٰلَکَ۔
(اگرہم ہرایک صورت پرتفصیلی گفتگو کریں تو کلام طویل اور مقصد دور ہوجائے گا لہذا ہم یہاں اس کے در پے نہیں ہوتے) 

(فتاوی رضویہ، ج۵، ص۴۶۰)

٭۔۔۔۔۔۔ (حدیث سے ثبوت ہونے میں مطالب تین قسم ہیں)جن باتوں کا ثبوت حدیث سے پایا جائے وہ سب ایک پلّہ کی نہیں ہوتیں بعض تو اس اعلیٰ
Flag Counter