(جیسا کہ اس کی طرف امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی جو سنّت کا دفاع کرنے والے ہیں۔ ت) (۱۳)یا قرائن ِحالیہ گواہی دے رہے ہوں کہ یہ روایت اس شخص نے کسی طمع سے یاغضب وغیرہما کے باعث ابھی گھڑکر پیش کردی ہے جیسے حدیث ِسبق میں زیادتِ جناح اورحدیثِ ذمِ معلمین اَطفال۔(۱۴)یا تمام کتب وتصانیفِ اسلامیہ میں استقرائے تام کیاجائے اور اس کاکہیں پتانہ چلے یہ صرف اَجلہ حفاظ ائمہ شان کاکام تھاجس کی لیاقت صدہاسال سے معدوم۔ (۱۵)یاراوی خود اقرارِ وضع کردے خواہ صراحۃً ،خواہ ایسی بات کہے جو بمنزلہ ئاقرار ہو،مثلاً ایک شیخ سے بلاواسطہ بدعوی سماع روایت کرے ، پھراُس کی تاریخِ وفات وہ بتائے کہ اُس کااس سے سننامعقول نہ ہو۔
یہ پندرہ باتیں ہیں کہ شاید اس جمع وتلخیص کے ساتھ ان سطور کے سوانہ ملیں۔