(ج۳،ص۳۵۳)
٭۔۔۔۔۔۔اسباب ِطعن دس ہیں: ۱۔کذب ۲۔تہمت ۳۔کثرتِ غلط ۴۔غفلت ۵۔فسق ۶۔وہم ۷۔مخالفتِ ثقات ۸۔جہالت ۹۔بدعت ۱۰۔سوءِ حفظ ۔
(ج۵،ص۴۵۴)
٭۔۔۔۔۔۔مجہول کی تین قسمیں ہیں:۱۔مستور:جس کی عدالتِ ظاہری معلوم اور باطنی کی تحقیق نہیں ۔۲۔مجہول العین: جس سے صرف ایک ہی شخص نے روایت کی ہو۔۳۔مجہول الحال: جس کی عدالتِ ظاہری وباطنی کچھ ثابت نہیں۔قسمِ اول یعنی مستور تو جمہور محققین کے نزدیک مقبول ہے یہی مذہب امام الأئمہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔اور دو قسم باقی کو بعض اکابر حجت جانتے جمہور مورث ضعف مانتے ہیں۔ (ج۵،ص۴۴۳،۴۴۴)
٭۔۔۔۔۔۔(موضوعیتِ حدیث کیونکر ثابت ہوتی ہے)غرض ایسے وجوہ سے حکم وضع کی طرف راہ چاہنا محض ہوس ہے، ہاں موضوعیت یوں ثابت ہوتی ہے کہ اس روایت کا مضمون(۱)قرآنِ عظیم (۲)سنتِ متواترہ (۳)یا اجماعی قطعی قطعیات الدلالۃ(۴)یا عقلِ صریح (۵)یا حسنِ صحیح(۶)یا تاریخِ یقینی کے ایسامخالف ہوکہ احتمالِ تاویل وتطبیق نہ رہے۔(۷)یا معنی ،شنیع وقبیح ہوں جن کا صدور حضور پُرنور صلوات اللہ علیہ سے منقول نہ ہو، جیسے معاذاللہ کسی فساد یا ظلم یا عبث یا سفہ یا مدحِ باطل یا ذمِ حق پر مشتمل ہونا۔(۸)یا ایک جماعت جس کا عدد حدِ تواتر کو پہنچے اور ان میں احتمال کذب یا ایک دوسرے کی تقلید کا نہ رہے اُس کے کذب وبطلان پر گواہی مستنداً الی الحس دے۔ع: