| نصاب اصول حديث مع افاداتِ رضویہ |
طرف سے کسی بات میں کچھ فضیلت کی خبر پہنچے اور وہ اس پر یقین اور ثواب کی امید سے عمل کرلے تواللہ عزوجل اسے وہ فضیلت عطافرمائے گا اگرچہ خبر ٹھیک نہ ہو۔ (ج۵، ص۴۸۶) ٭۔۔۔۔۔۔امام بخاری کو ایک لاکھ احادیثِ صحیحہ حفظ تھیں، صحیح بخاری میں کل چارہزار بلکہ اس سے بھی کم ہیں۔ (ج۵، ص۵۴۶) ٭۔۔۔۔۔۔ (ایسی جگہ اگر سند کسی قابل نہ ہوتوصرف تجربہ، سندِ کافی ہے) أَقُوْلُ بالفرض اگر ایسی جگہ ضعفِ سند ایسی ہی حد پر ہوکہ اصلا ًقابلِ اعتماد نہ رہے مگر جو بات اس میں مذکور ہوئی وہ علماء وصلحاء کے تجربہ میں آچکی توعلمائے کرام اس تجربہ ہی کو سندِ کافی سمجھتے ہیں۔ (ج۵،ص۵۵۱)
٭۔۔۔۔۔۔ اَلْمُعَلَّقُ عِنْدَ نَا فِی الْاِسْتِنَادِکَالْمَوْصُوْلِ
ہمارے نزدیک معلق مستند ہونے میں متصل کی طرح ہے۔ (ج۱،ص۲۳۸) ٭۔۔۔۔۔۔ حدیثِ ضعیف :حلیہ میں فرمایا کہ جب حدیثِ ضعیف بالاجماع فضائل میں مقبول ہے تو اباحت میں بدرجہ اَولی۔ (ج۱، ص۲۴۰) ٭۔۔۔۔۔۔ حدیثِ حسن :کسی مقصد کا ثبوت حدیثِ صحیح پر موقوف نہیں بلکہ حدیثِ صحیح کی طرح حسن سے بھی ثابت ہوجاتاہے۔ (ج۱،ص۲۴۱) ٭۔۔۔۔۔۔حدیثِ ضعیف سے استحباب ثابت ہوتاہے سنیت نہیں۔ (ج۱،ص۱۹۶) ٭۔۔۔۔۔۔ راوی کی تعریف وستائش روایت کی تعریف وستائش نہیں۔اور راوی کا فی نفسہٖ صادق ہونا، حدیث میں اس کے ضعیف ہونے کے منافی نہیں۔