٭۔۔۔۔۔۔ جس حدیث میں راوی بالکل مبہم ہو وہ بھی موضوع نہیں۔
(ج۵، ص۴۵۱)
٭۔۔۔۔۔۔ تعددِ طرق سے مبہم کا جبرِ نقصان ہوتاہے۔ (ج۵،ص۴۵۲)
٭۔۔۔۔۔۔ حدیث ِمبہم دوسری حدیث کیلئے مقوی ہوسکتی ہے۔ (ایضا)
٭۔۔۔۔۔۔ (تعددِ طرق سے ضعیف حدیث قوت پاتی بلکہ حسن ہوجاتی ہے) حدیث اگر متعدد طریقوں سے روایت کی جائے اور وہ سب ضعف رکھتے ہوں توضعیف ضعیف ملکر بھی قوت حاصل کرلیتے ہیں بلکہ اگر ضعف غایتِ شدت وقوت پرنہ ہوتوجبرِ نقصان ہوکر حدیث درجہ حسن تک پہنچتی اور مثلِ صحیح خود احکامِ حلال میں حجت ہوجاتی ہے۔ (ج۵،ص۴۷۲)
٭۔۔۔۔۔۔اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ (التعقبات علی الموضوعات)کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ ''نہ صرف ضعیف ِمحض بلکہ منکر بھی فضائل اعمال میں مقبول ہے۔'' (ج۵، ص۴۷۷)
٭۔۔۔۔۔۔ اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ (فَتحُ المُبین بِشرْح الاربَعِین) کے حوالے سے فرماتے ہیں۔ایک حدیث ضعیف میں آیاہے کہ جسے میری طرف سے کسی عمل پر ثواب کی خبر پہنچی اور اس نے اس پر عمل کرلیا تو اسے اس کا اجر حاصل ہوجائے گا اگرچہ وہ بات میں نے نہ کہی ہو۔ (ج۵، ص۴۷۹)
٭۔۔۔۔۔۔ دوسری جگہ دار قطنی وغیرہا کتب سے نقل فرماتے ہیں کہ: