٭۔۔۔۔۔۔بالفرض اگر کتبِ حدیث میں اصلا ًپتانہ ہوتا،تاہم ایسی حدیث کا بعض کلماتِ علماء میں بلا سند مذکور ہونا کافی ہے۔ (ج۵،ص۵۵۵)
٭۔۔۔۔۔۔حدیث اگرموضوع بھی ہوتاہم فعل کی ممانعت نہیں۔
(ج۵،ص۵۶۱)
٭۔۔۔۔۔۔عمل بموضوع اورعمل بما فی الموضوع میں فرقِ عظیم ہے۔
(ج۵،ص۵۷۱)
٭۔۔۔۔۔۔اعمالِ مشایخ محتاجِ سند نہیں، اعمال میں تصرف اور ایجادِ مشایخ کو ہمیشہ گنجائش(ہے)۔ (ج۵،ص ۵۷۱)
٭۔۔۔۔۔۔مشاجرات صحابہ میں سیروتاریخ کی موحش حکایتیں قطعا ًمردود ہیں۔
(ج۵،ص۵۸۲)
٭۔۔۔۔۔۔مجہول العین کا قبول ہی مذہب ِمحققین ہے۔ (ج۵،ص۵۹۵)
٭۔۔۔۔۔۔فضائلِ اعمال سے مراد اعمالِ حسنہ ہیں نہ صرف ثواب ِاعمال۔
(ج۵،ص۶۰۰)
٭۔۔۔۔۔۔ہمارے امامِ اعظم رضی اللہ عنہ جس سے روایت فرمالیں اس کی ثقاہت ثابت ہوگی۔ (ج۵،ص۶۱۲)
٭۔۔۔۔۔۔ افِادہ عام (جہالتِ راوی سے حدیث پر کیااثرپڑتاہے) کسی حدیث کی سند میں راوی کا مجہول ہونااگر اثرکرتاہے توصرف اس قدر کہ اسے ضعیف کہا جائے نہ کہ باطل وموضوع بلکہ علماء کو اس میں اختلاف ہے کہ جہالت قادحِ صحت ومانعِ حجیت بھی ہے یا نہیں۔ (ج۵،ص۴۴۳)