Brailvi Books

نصاب اصول حديث مع افاداتِ رضویہ
85 - 95
٭۔۔۔۔۔۔کسی حدیث کی سند میں راوی کا مجہول ہونا اگراثرکرتا ہے تو صرف اس قدر کہ اسے ضعیف کہاجائے نہ کہ باطل وموضوع ۔         (ج۵،ص۴۴۳)

٭۔۔۔۔۔۔نافع اورعبد اللہ بن واقد دونوں شاگرد ِعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ 

(ج۵،ص۱۶۷)

٭۔۔۔۔۔۔محاوراتِ سلف واصطلاحِ محدثین میں تشیع اور رفض کے درمیان فرق ہے متأخرین'' شیعہ'' روافض کو کہتے ہیں۔            (ج۵،ص۱۷۵)

٭۔۔۔۔۔۔بخاری ومسلم کے تیس سے زیادہ وہ راوی ہیں جن کو اصطلاح قدماء پر بلفظِ تشیع ذکرکیاجاتاہے۔                     (ج۵،ص۱۷۶)

٭۔۔۔۔۔۔چند اوہام یا کچھ خطائیں محدث سے صادرہونا نہ اسے ضعیف کردیتا ہے نہ اس کی حدیث کومردود۔                    (ج۵،ص۱۸۴)

٭۔۔۔۔۔۔حدیث ِمعلول کیلئے ضعف ِراوی ضروری نہیں۔    (ج۵،ص۲۰۶)

٭۔۔۔۔۔۔جمہور محدثین کے مذہبِ مختارپرمدلس کاعنعنہ مردود ہے۔

(ج۵،ص۲۴۵)

٭۔۔۔۔۔۔مرسل حدیث ہمارے اورجمہورکے نزدیک حجت ہے۔

(ج۵،ص۲۹۲)

٭۔۔۔۔۔۔ضعیف ومتروک میں زمین وآسمان کا فرق ہے کہ ضعیف کی حدیث معتبر ومکتوب اور متابعت وشواہد میں مقبول ہے بخلاف متروک ۔ 

(ج۵،ص۳۰۳)

٭۔۔۔۔۔۔عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمرو انس سے افقہ ہیں رضی اللہ تعالی عنہم