٭۔۔۔۔۔۔حدیث کے صحیح نہ ہونے اور موضوع ہونے میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔اور حدیث کے صحیح نہ ہونے سے اس کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔ (ج۵،ص۴۴۰،۴۴۱) ٭۔۔۔۔۔۔ابن جوزی نے جس جس حدیث کو غیر صحیح کہا اس کا موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔ (ج۵،ص۴۴۱) ٭۔۔۔۔۔۔لفظ ''لا یثبت''سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ حدیث موضوع ہے۔ (ج۵،ص۴۴۲) ٭۔۔۔۔۔۔سند کا منقطع ہونا مستلزم وضع نہیں۔ (ج۵،۴۴۸) ٭۔۔۔۔۔۔ہمارے ائمہ کرام اور جمہور علماء کے نزدیک انقظاع سے صحت وحجیت میں کچھ خلل نہیں آتا۔ (ج۵، ص۴۴۸) ٭۔۔۔۔۔۔حدیث مضطرب بلکہ منکر بلکہ مدرج بھی موضوع نہیں یہاں تک کہ فضائل میں مقبول ہیں۔ (ج۵،ص۴۵۰) (1)مذكورہ فوائدِحدیثیہ میں سے اكثر فوائدفتاوی رضویہ مخرجہ جلد 5 میں موجود رسائل منیر العین اور حاجزالبحرین سے لئے گئے ہیں ان فوائد كو فقط ایك نظر دیكھنے سے امامِ اہلسنت كی دیگر علوم وفنون میں مہارت وجودتِ طبع كی طرح علم اصول حدیث میں بھی مہارت و وقتِ نظری آفتابِ نیم روز كی طرح واضح دكھائی دیتی ہے۔ ہم نے یہاں ان فوائد كو اجمالاً ذكر كیا ہے لہٰذااگر كسی كو تفصیل یا تشریح مطلوب ہو تو ان رسائل اور دیگر كُتبِ اصولِ حدیث كی طرف مراجعت كرے۔ 12