| نصاب اصول حديث مع افاداتِ رضویہ |
اس اعتبار سے حدیث کی چار اقسام ہیں:
(۱)۔۔۔۔۔۔حدیث قدسی (۲)۔۔۔۔۔۔حدیث مرفوع
(۳)۔۔۔۔۔۔حدیث موقوف (۴)۔۔۔۔۔۔حدیث مقطوع(۱)۔۔۔۔۔۔حدیث قدسی: (۱)
وہ حدیث جس کے راوی سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہوں اور نسبت اللہ تعالی کی طرف ہو۔
مثال:
سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا:''مَنْ عَادَ لِيْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہ، بِالْحَرْبِ''
ترجمہ:جس نے میرے کسی ولی(دوست)سے عداوت کی میں اس کے ساتھ اعلان جنگ کرتاہوں۔
1۔۔۔۔۔۔(i)یاد رہے کہ قرآن کریم کے الفاظ ومعانی دونوں من جانب اللہ ہوتے ہیں بخلاف حدیث قدسی کے کہ اس میں معانی اللہ عزوجل کی جانب سے اور الفاظ سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف سے ہوتے ہیں۔(ii) حدیث قدسی کی تعداد دو سو(200) سے زائد ہے۔