Brailvi Books

نصاب اصول حديث مع افاداتِ رضویہ
74 - 95
مرثد غنوی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :''تم قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف متوجہ ہوکر نماز نہ پڑھو۔''

    اس حدیث کی سند میں دوجگہوں پر راویوں کا اضافہ کیا گیا ہے ایک سفیان کا اور دوسرے ابوادریس کا، یہ اضافہ راویوں کے وہم کے سبب ہواکیونکہ دیگر ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے یہ حدیث اس اضافہ کے بغیر بیان کی ہے۔
 (۵)۔۔۔۔۔۔مُضْطَرِب:
    وہ حدیث جو ایسی مختلف اسانید سے مروی ہوجو قوت میں مساوی ہوں لیکن حدیث کے مفہوم میں ایسا تعارض ہوکہ تطبیق ممکن نہ ہو۔(۱)

مثال:
    ''رَوَی التِّرْمِذِيُّ عَنْ شَرِیْکٍ عَنْ أَبِيْ حَمْزَۃَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الزَّکَاۃِ فَقَالَ: ''اِنَّ فِی الْمَالِ لَحَقًّا سِوَی الزَّکاۃِ''
''مال میں زکوۃ کے علاوہ اور بھی حق ہے۔'' اور ابن ماجہ نے قوت میں اسی کی مثل سند سے یہ حدیث روایت کی کہ :
'' لَیْسَ فِی الْمَالِ حَقٌّ سِوَی
1۔۔۔۔۔۔حدیث مضطرب بلکہ منکر بلکہ مدرج بھی موضوع نہیں یہاں تک کہ فضائل میں مقبول ہے۔(فتاوی رضویہ۵/۴۵۰)
Flag Counter