لیکن اس سے حدیث کے الفاظ میں اشتباہ ہوگیا کیونکہ
کے الفاظ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے ہونے پر ظاہرا کوئی قرینہ نہیں۔
ادراج کا حکم:
ادراج بالاجماع حرام ہے لیکن اگر مشکل لفظ کی تفسیر کیلئے ادراج کیا گیاہوتوغیر ممنوع ہے۔
جس حدیث کے متن یا سند میں تبدیلی کردی جائے چاہے الفاظ کے بدلنے سے ہو یا ان کو مقدم ومؤخر کرنے سے۔
مثال:
''عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، :اَلسَّبْعَۃُ الَّذِیْنَ یُظِلّہُمُ اللہُ فِيْ ظِلِّہٖ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلُّہ، فَفِیْہِ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْفَاھَا حَتّٰی لاَ تَعْلَمَ یَمِیْنُہ، مَا تُنْفِقُ شِمَالُہٗ''
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سات آدمی جنہیں اللہ تعالی اپنے