Brailvi Books

نصاب اصول حديث مع افاداتِ رضویہ
72 - 95
نے فرمایا: وضوء کامل کرو خشک ایڑھیوں کیلئے آگ کا عذاب ہے۔''

    اس حدیث میں
''أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ''
 کے الفاظ حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہیں گویا کہ انہوں نے فرمایا کہ وضوء کامل کرواور اس پر دلیل کے طور پر سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان لائے کہ
وَیْلٌ لِلْاَعْقَابِ مِنَ النَّارِ
لیکن اس سے حدیث کے الفاظ میں اشتباہ ہوگیا کیونکہ
أَسْبِغُوا الْوُضُوء
کے الفاظ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے ہونے پر ظاہرا کوئی قرینہ نہیں۔

ادراج کا حکم:

    ادراج بالاجماع حرام ہے لیکن اگر مشکل لفظ کی تفسیر کیلئے ادراج کیا گیاہوتوغیر ممنوع ہے۔
(۳)۔۔۔۔۔۔مقلوب:
 جس حدیث کے متن یا سند میں تبدیلی کردی جائے چاہے الفاظ کے بدلنے سے ہو یا ان کو مقدم ومؤخر کرنے سے۔

مثال:
    ''عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، :اَلسَّبْعَۃُ الَّذِیْنَ یُظِلّہُمُ اللہُ فِيْ ظِلِّہٖ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلُّہ، فَفِیْہِ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْفَاھَا حَتّٰی لاَ تَعْلَمَ یَمِیْنُہ، مَا تُنْفِقُ شِمَالُہٗ''
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سات آدمی جنہیں اللہ تعالی اپنے
Flag Counter