Brailvi Books

نصاب اصول حديث مع افاداتِ رضویہ
68 - 95
(۴)۔۔۔۔۔۔مُعَلَّل:(۱)
    وہ حدیث جس کے راوی میں طعن اس کے وہم کی وجہ سے ہو۔یعنی راوی وہم کے سبب ایک حدیث کو دودسری میں داخل کردے ،یامرفوع کو موقوف یا موقوف کو مرفوع قرار دے دے وغیرہ۔

نوٹ:

     جب قرائن کو جمع کیا جائے تو حدیثِ معلل کا پتہ چلتاہے۔

مثال:

    یعلی بن عبید سفیان ثوری سے وہ عمرو بن دینار سے اور وہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے اور وہ سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ''بائع اور مشتری کو خیار ہے۔''اس سند میں یعلی بن عبید نے غلطی سے عمرو بن دینار کو سند میں ذکر کیا ہے حالانکہ سفیان ثوری عمرو بن دینار سے نہیں بلکہ عبد اللہ بن دینار سے روایت کرتے ہیں کیونکہ سفیان کے تمام اصحاب (شاگرد) اس حدیث کو عبد اللہ بن دینار سے روایت کرتے ہیں۔

ان کا حکم: 

    یہ خبر مردود کی اقسام میں سے ہیں اور خبرِمردود کا حکم گذرچکا ہے۔                                                                                                                                                            (1)  .....حدیث معلول كے لیے ضعیف راوی ضروری نہیں (فتاوی رضویہ 206/5)
Flag Counter