Brailvi Books

نصاب اصول حديث مع افاداتِ رضویہ
66 - 95
قطعیت کے ساتھ کسی حدیث کو موضوع نہیں کہاجاسکتا، موضوع حدیث کو بیان کرنا جائز نہیں مگر یہ کہ اس کا موضوع ہونابیان کردیا جائے۔

مثال:
    ''اَلْبَاذِنْجَانُ شِفَاءٌ مِّنْ کُلِّ دَاءٍ''
 بینگن ہر بیماری کیلئے شفا ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔متروک:
    وہ حدیث جس کی سند میں کوئی ایسا راوی آجائے جس پر کذب کی تہمت ہو۔تہمت کذب کے دو اسباب ہیں:(۱) وہ حدیث صرف اسی راوی سے مروی ہواور قواعد معلومہ کے خلاف ہو۔(۲) اس شخص کا عادۃ جھوٹ بولنا مشہورومعروف ہو لیکن حدیث نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں اس کا جھوٹ بولنا ثابت نہ ہو۔

مثال:

    ''عمرو بن شمر جعفی جابر سے وہ ابو طفیل سے اور وہ حضرت علی اور حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے اور نویں ذی الحجہ کے دن صبح کی نماز سے تکبیرات تشریق شروع فرماتے اور ایام تشریق کے آخری دن عصر کی نماز پر تکبیرات ختم کرتے تھے۔''امام نسائی اور دار قطنی نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں راوی عمرو بن شمر متروک الحدیث ہے۔
Flag Counter