Brailvi Books

نمازِ عید کا طریقہ(حنفی)
9 - 10
ایسافِعل نہ کیا ہو کہ اُس پر نَماز کی بِنا نہ کر سکے مَثَلاًاگر مسجِدسے باہَر ہو گیا یاقَصداً وضو توڑ دیا یا چاہے بھُول کر ہی کلام کیا تو تکبیر ساقِط ہو گئی اوربِلاقَصد وُضو ٹوٹ گیا تو کہہ لے۔
			(دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج۳ص۷۳  دارالمعرفۃ بیروت) 
خ تکبیرِ تشریق اُس پر واجِب ہے جو شہر میں مُقیم ہو یا جس نے اِس مقیم کی اِقتِدا کی۔ وہ اِقتِدا کرنے والا چاہے مسافِر ہو یا گاؤں کا رَہنے والا اور اگر اس کی اِقتِدا نہ کریں تو ان پر (یعنی مسافر اور گاؤں کے رَہنے والے پر) واجِب نہیں۔ 		  (دُرِّمُختار ج۳ص۷۴)
خمُقیم نے اگر مسافر کی اِقتِدا کی تو مُقیم پر واجِب ہے اگرچِہ اس مسافر امام پر واجِب نہیں۔ 					(دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج۳ص۷۴) 
خنَفل، سنّت اور وِتر کے بعد تکبیر واجِب نہیں۔
				(بہارِ شریعت ج۱ص۷۸۵،رَدُّالْمُحتار ج۳ص۷۳)
خ جُمُعہ کے بعد واجِب ہے اورنَمازِ ( بَقَر)عید کے بعد بھی کہہ لے۔	    (اَیْضاً) 
خ مَسبُوق ( جس کی ایک یا زائد رَکْعَتیں فوت ہوئی ہوں ) پر تکبیر واجِب ہے مگر جب خود سلام پھیرے اُس وقت کہے۔				 (رَدُّالْمُحتار ج۳ص۷۶)
خ مُنْفَرِد( یعنی تنہا نَماز پڑھنے والے ) پر واجِب نہیں (اَلْجَوْہَرَۃُ النَّیِّرَۃ ص۱۲۲) مگر کہہ لے کہ صاحِبَین( یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رَحِمَہُمَا اللّٰہُ تَعَالٰی)کے نزدیک اس پر بھی واجِب ہے ۔ 											(بہارِ شریعت ج۱ص۷۸۶)