Brailvi Books

نمازِ عید کا طریقہ(حنفی)
7 - 10
 بِغیر نگینے کی بھی مت پہنئے۔ نگینے کے وَزن کی کوئی قید نہیں۔ چاند ی کا چَھلّہ یا چاندی کے بیان کردہ وَزن وغیرہ کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی یا چھلّہ مرد نہیں پہن سکتا) خ نَماز فَجر مسجِد مَحَلّہ میں پڑھناخ عیدُ الفِطر کی نَماز کو جانے سے پہلے چند کھجوریں کھا لینا، تین ، پانچ ، سات یا کم و بیش مگر طاق ہوں۔کَھجوریں نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز کھا لیجئے۔ اگر نَماز سے پہلے کچھ بھی نہ کھایا تو گُناہ نہ ہوا مگر عشاء تک نہ کھایا تو عِتاب (ملامت) کیا جائے گا خ نَمازِ عید ، عِیدگاہ میں ادا کرناخ عِید گاہ پیدل چلناخ سُواری پر بھی جانے میں حَرَج نہیں مگر جس کو پیدل جانے پرقُدرت ہو اُس کیلئے پیدل جانا اَفضل ہے اور واپَسی پر سُواری پر آنے میں حَرَج نہیں خ نَمازِ عِید کیلئے ایک راستے سے جانا اوردوسرے راستے سے واپَس آناخعِید کی نَماز سے پہلے صَدَقَۂ فِطر ادا کرنا(اَفضل تو یہی ہے مگر عید کی نَماز سے قَبل نہ دے سکے تو بعد میں دیدیجئے) خ خُوشی ظاہِر کرناخکثرت سے صَدَقَہ دیناخ عید گاہ کو اِطمینان و وَقار اور نیچی نِگاہ کئے جاناخ آپَس میں مُبارک باد دیناخ بعدِ نَماز عِید مُصَافَحہ ( یعنی ہاتھ مِلانا) اور مُعانَقَہ (یعنی گلے ملنا) جیسا کہ عُمُوماً مسلمانوں میں رائج ہے بہتر ہے کہ اِس میں اِظہارِمَسرَّت ہے۔ مگر اَمرَد خوبصورت سے گلے ملنا مَحَلِّ فِتنہہےخ عِیدُ الفِطر ( یعنی میٹھی عِید) کی نَماز کیلئے جاتے ہوئے راستے میں آہستہ سے تکبیر کہیں اور نَمازِ عِیدِ اَضحٰی کیلئے جاتے ہوئے راستے میں بُلند آواز سے تکبیر کہیں۔ تکبیریہ ہے:

اللہُ اَکْبَرُُ ط اللہ ُاَکْبَرُط لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ ط اللہُ اَکْبَرُط وَلِلّٰہِ الْحَمْد