Brailvi Books

نیک بننے کا نسخہ
22 - 24
 ’’  اجتِماعِ ذکر ونعت ‘‘  برائے ایصالِ  ثواب
    دعوت اسلامی کے تمام ذِمّے داروں  کی خدمتوں  میں  مَدَنی التِجا ہے کہ آپ کے یہاں  کسی اسلامی بھائی کو مَرَض یامصیبت (مَثَلاً بچّہ بیمار ہونا، نوکری چھوٹنا، چوری یا ڈکیتی ہونا، اسکوٹر یا موبائل فون چھن جانا، حادِثہ پیش آنا، کاروبار میں  نقصان ہو جانا، عمارَت گر جانا، آگ لگ جانا، کسی کی وفات ہو جانا وغیرہ کوئی سا بھی صدمہ) پہنچے ، ثواب کی نیّت سے اُس دُکھیارے کی دِلجوئی کر کے ثوابِ عظیم کے حقدار بنئے کہ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے: بیشک اللہ تَعَالٰیکی بارگاہ میں  فرائض کے بعد سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ مسلمان کو خوش کرے۔ (اَلْمُعْجَمُ الْکبِیر ج۱۱ص۵۹ حدیث ۱۱۰۷۹) اِنتقال ہو جانے پر ہوسکے تو فوراً میِّت کے گھر وغیرہ پر حاضِری دیجئے، ممکنہ صورت میں  غسلِ میّت ،  نَمازِ جنازہ بلکہ تدفین میں  بھی حصّہ لیجئے۔ مالداروں  اور دُنیوی نامداروں  کی دلجوئی کرنے والوں  کی عُمُوماً اچّھی خاصی تعداد ہوتی ہے، مگر بے چارے غریبوں  کا پُرسانِ حال کون؟  بے شک اچّھی اچّھی نیّتوں  کے ساتھ آپ اہلِ ثَروت کی تعزیَت فرمایئے مگر غریبوں  کوبھی نظر انداز مت کیجئے، ان ’’  شخصیّات  ‘‘  کے ساتھ ساتھ بِالخصوص آپ کے جس ماتَحت غریب اسلامی بھائی کے یہاں  میِّت ہوجائے ، اُسے رِشتے داروں  وغیرہ کوجَمع کرنے کی ترغیب دلا کر اُس کے مکان پرزیادہ سے زیادہ 92 مِنَٹ کا ’’   اجتماعِ ذکرو نعت ‘‘  رکھئے، اگر سب تک آواز پہنچتی ہو تو پھر بِلاحاجت  ’’  سائونڈ سسٹم ‘‘  لگانے کے مُعاملے میں  خدا سے ڈریئے، حسبِ حیثیّت لنگرِ رسائل کا ضَرور ذِہن دیجئے، مگر طعام کا اہتِمام ہرگز نہ ہونے دیجئے، (مسئلہ: تیجے کا کھانا چونکہ عموماً دعوت کی صورت میں  ہوتا ہے اس لئے اَغنِیا کے لئے جائز نہیں  صِرف غُرَبا ء و مساکین کھائیں  ، تین دن کے بعد بھی میِّت