Brailvi Books

نیک بننے کا نسخہ
21 - 24
 کیلئے اکٹّھے ہوتے ہیں  یہ رسم غَلَط ہے ، ہاں  جو کسی وجہ سے تعزیت نہ کر سکا تھا وہ عید کے دن تعزیت کرے تو حرج نہیں  اِسی طرح پہلی بقر عید پر جن اہلِ میّت پر قربانی واجب ہو انہیں  قربانی کرنی ہو گی ورنہ گنہگار ہوں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سوگ کے ایّام گزر جانے کے باوُجُود عید آنے پر میِّت کا سوگ (غم) کرنا  یا سوگ کے سبب عمدہ لباس وغیرہ نہ پہنناناجائز و گناہ ہے۔البتّہ ویسے ہی کوئی عمدہ لباس نہ پہنے تو گناہ نہیں  ٭ جو ایک بار تعزیت کر آیا اُسے  دوبارہ تعزیت کے لیے جانا مکروہ ہے (  دُرِّمُختار  ج۳  ص۱۷۷)٭ اگر تعزیت کے لئے عورَتیں  جَمْعْ ہوں  کہ نوحہ کریں  تو انہیں  کھانا نہ دیا جائے کہ گناہ پر مدد دینا ہے (بہار ِشریعت ج ۱ ص ۸۵۳ ) ٭ نوحہ یعنی میّت کے اَوصاف مبالَغہ کے ساتھ(یعنی بڑھا چڑھا کرخوبیاں ) بیان کر کے آواز سے رونا جس کو  ’’  بَین ‘‘  کہتے ہیں  بِالاِْجماع حرام ہے۔ یوہیں  واوَیلا وامُصیبتا (یعنی ہائے مصیبت ) کہہ کے چلّانا (ایضاً ص ۸۵۴) ٭ اَطِبّاء (یعنی طبیب) کہتے ہیں  کہ(جو اپنے عزیز کی موت پر سخت صدمے سے دو چار ہواُس کے) میِّت پر بالکل نہ رونے سے سخت بیماری پیدا ہوجاتی ہے ، آنسو بہنے سے دل کی گرمی نکل جاتی ہے ، اِس لیے اِس(بغیر نوحہ )   رونے سے ہر گز  مَنْعْ نہ کیا جائے (مراٰۃ المناجیح ج۲ ص۵۰۱)٭ مُفَسّرشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّانفرماتے ہیں : تعزیَت کے ایسے پیارے الفاظ ہونے چاہئیں  جس سے اُس غمزدہ کی تسلّی ہوجائے، فقیر کا تجرِبہ ہے کہ اگر اس موقع پر غمزدوں  کو واقِعاتِ کربلا یاد دلائے جائیں  توبَہُت تسلّی ہوتی ہے۔ تمام تعزیتیں  ہی بہتر ہیں  مگر بچّے کی وفات پر(مَحارِم کا اُس کی) ماں  کو تسلی دینا بَہُت ثواب ہے۔    (مُلَخص ازمراٰۃ المناجیح ج۲ ص ۵۰۷)