Brailvi Books

نیک بننے کا نسخہ
20 - 24
دَفْن سے  پہلے ہی کرے (جوہرہ ص۱۴۱)٭ تعزیت کا وَقْت موت سے تین دن تک ہے، اِس کے بعد مکروہ ہے کہ غم تازہ ہوگا مگر جب تعزیت کرنے والا یا جس کی تعزیت کی جائے وہاں  موجود نہ ہو یا موجود ہے مگر اُسے عِلْم نہیں  تو بعد میں  حَرَج نہیں  (ایضاً ، رَدُّالْمُحتار ج ۳ ص۱۷۷)٭ (تعزیت کرنے والا) عاجِزی وانکساری اور رنج وغم کا اظہار کرے، گفتگو کم کرے اور مسکرانے سے بچے کہ (ایسے موقع پر) مسکرانا (دلوں  میں ) بغض و کینہ پیدا کرتا ہے (آدابِ دین ص۳۵)٭ مستحب یہ ہے کہ میِّت کے تمام اَقارِب کو تعزیت  کریں ، چھوٹے بڑے مرد و عورت سب کو مگر عورت کو اُس کے مَحارِم ہی تعزیت کریں  ۔ (بہار ِشریعت ج ۱ ص ۸۵۲ )  تعزیت میں  یہ کہےاللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور اس مصیبت پر اجرِ عظیم عطا فرمائے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّمرحوم کی مغفِرت فرمائے۔  نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان لفظوں   سے تعزیت فرمائی: اِنَّ لِلّٰہِ مَااَخذَ وَلَہُ مَااَعْطٰی وَکُلٌّ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ (ترجمہ:)خدا ہی کا ہے جو اُس نے لیا اور جو دیا اور اُس کے نزدیک ہر چیز ایک مقّررہ وقت تک ہے، لہٰذا صبر کرو اور ثواب کی اُمّید رکھو (بُخاری ج۱ص۴۳۴حدیث۱۲۸۴)  ٭ میِّت کے اَعِزّہ (یعنی عزیزوں )  کا گھر میں  بیٹھنا کہ لوگ اُن کی تعزیت کیلئے آئیں  اس میں  حَرَج نہیں  اور مکان کے درواز ے پر یا شارِع عام (یعنی عام راستے )پر بچھونے(یا دری وغیرہ) بچھا کر بیٹھنا بُری بات ہے (عالمگیری ج۱ ص ۱۶۷ ، رَدُّالْمُختار ج۳ ص۱۷۷)٭ قَبْر کے قریب تعزیت کرنا مکروہِ (تنزیہی ) ہے ( دُرِّمختار ج۳ ص۱۷۷)بعض قوموں  میں  وفات کے بعد آنے والی پہلی شبِ براء ت یا پہلی عید کے موقع پر عزیز واَقرِبا ء اہلِ میّت کے گھرتعزیت