’’ تعزیت سنّتِ مبارَکہ ہے ‘‘ کے سولہ حُرُوف کی نسبت سے تعزیت کے16مَدَنی پھول
٭3فرامین مصطفیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَجو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کریگا اُس کے لئے اُس مصیبت زدہ جیسا ثواب ہے (ترمذی ج۲ص ۳۳۸ حدیث ۱۰۷۵))۲(جو بندۂ مومِن اپنے کسی مصیبت زدہ بھائی کی تعزیت کر ے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن اُسے کرامت کا جوڑا پہنائے گا (ابن ماجہ ج۲ ص ۲۶۸ حدیث۱۶۰۱))۳(جو کسی غمزدہ شخص سے تعزیت کر ے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے تقوٰی کا لباس پہنائے گا اور رُوحو ں کے درمِیان اس کی رُوح پر رَحمت فرمائے گا اور جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کرے گااللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے جنّت کے جوڑوں میں سے دوایسے جوڑے پہنائے گا جن کی قیمت (ساری )دنیا بھی نہیں ہوسکتی( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَطج۶ ص ۴۲۹حدیث ۹۲۹۲)٭ حضرتِ سیِّدُناموسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بارگاہِ ربُّ العزَّت میں عرض کی:اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ! وہ کون ہے جو تیرے عرش کے سائے میں ہوگاجس دن اُس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگااللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا: ’’ اے موسی عَلَیْہِ السَّلام! وہ لوگ جو مریضوں کی عِیادت کرتے ہیں ، جنازے کے ساتھ جاتے ہیں اور کسی فوت شدہ بچّے کی ماں سے تعزیت کرتے ہیں ‘‘ ( تمہیدالفرش للسیوطی ص۶۲)٭ تعزیت کا معنیٰ ہے :مصیبت زدہ آدمی کو صبر کی تلقین کرنا ۔ ’’ تعزیت مسنون (یعنی سنّت )ہے ‘‘ (بہار ِشریعت ج۱ص۸۵۲)٭ دَفْن سے پہلے بھی تعزیت جائز ہے ، مگر اَفضل یہ ہے کہ دَفْن کے بعد ہو یہ اُس وَقت ہے کہ اولیائے میِّت (میّت کے اہلِ خانہ ) جَزع وفَزع (یعنی رونا پیٹنا)نہ کرتے ہوں ، ورنہ اُن کی تسلّی کے لیے