ہیں : اِس وَسوَسے کا جواب دینے والے تین قسم کے لوگ ہیں ۔ ایک قسم ان لوگوں کی ہے جوایسے موقع پر شیطان سے کہتے ہیں : ’’ خوب توجُّہ دِلائی اب میں تجھے زِچ (یعنی بیزار) کرنے کیلئے دل کو بھی حاضِر کرتا ہوں ۔ ‘‘ اس طرح شیطان کے زخموں پر نمک پاشی ہوجاتی ہے۔ دوسرے وہ احمق ہیں جو شیطان سے کہتے ہیں : ’’ تونے ٹھیک کہا جب دل ہی حاضِر نہیں تو زَبان ہِلائے جانے سے کیا فائدہ! ‘‘ اور وہ ذِکرُاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سے خامو ش ہوجاتے ہیں ۔ یہ نادان سمجھتے ہیں کہ ہم نے عَقْلمندی کا کام کیا حالانکہ اُنہوں نے شیطان کو اپناہمدرد سمجھ کر دھوکاکھالیا ہے۔ تیسرے وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں : اگر چِہ ہم دل کو حاضـر نہیں کرسکے مگر پھر بھی زَبان کو ذِکرُاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں مصروف رکھنا خاموش رہنے سے بہتر ہے، اگر چہِ دل لگا کر ذِکرُاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کرنااس طرح کے ذِکرُاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سے کہیں بہتر ہے۔ (کیمیائے سعادت ج۲ ص۷۷۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
توبہ کی فضیلت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! دل نہ لگے تب بھی عمل جاری رکھنا ہی ہمارے لئے بہتر ہے ۔ بَہَر حال نیک بننے کا نسخہ حاضِر کیا ہے ، اِس کے مطابِق عمل کرتے جایئے۔ کھبی نہ کبھی تواِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّمنزِل پاہی لیں گے۔ مَدَنی انعام نمبر16 میں روزانہ دورَکْعَت نمازِ توبہ ادا کرکے اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی ترغیب