یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاوردوسری پربھی؟ فرمایا: دو سر ی پر بھی۔مزید ارشاد فرمایا: صَفیں برابر کرو اور کندھے کو مُقابِل (یعنی ایک سیدھ میں ) کرو ، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نَرْم ہوجاؤاور کُشادَگیوں (یعنی صف کی خالی جگہوں ) کو بند کرو کہ شیطٰن بَھیڑ کے بچّے کی طرح تمہارے بیچ میں داخل ہوجاتا ہے ۔ (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۸ ص۲۹۶حدیث ۲۲۳۲۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کون سا عمل زِیادہ افضل؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہوسکتا ہے آپ میں سے کسی کو ’’ مَدَنی اِنْعامات‘ ‘ مشکِل معلوم ہوں مگرہمّت نہ ہاریں۔منقول ہے : اَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ اَحْمَزُھا یعنی ’’ افضل ترین عبادت وہ ہے جس میں مَشَقَّت زیادہ ہو۔ ‘‘ (مقاصد حسنہ ص۷۹) حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدھَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں : ’’ دنیا میں جو عمل جتنا دشوار ہوگابَروزِقِیامت میزانِ عمل میں وہ اُتنا ہی زِیادہ ـ وَزْن دار ہوگا ‘‘ (تذکرۃ الاو لیاء ج۱ص۹۵ ) جب عمل شُروع کردیں گے تو وہ آپ کیلئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آسان ہوجائے گا۔ غالباً آپ کو تجرِبہ ہوگا کہ سخت سردی کے وَقْت وُضُو کیلئے بیٹھتے ہیں تو شُروع میں سردی سے دانت بجتے ہیں پھر ہمّت کرکے جب وُضو شُروع کردیتے ہیں تواگر چِہ ابتِدائی ٹھنڈک زِیادہ محسوس ہوتی ہے مگر پھر بَتَد رِیج کم ہوجاتی ہے۔ ہر مشکِل کام کایِہی اُصول ہے ۔مَثَلاً کسی کوکوئی مُہْلِک بیماری لگ جائے تو وہ بے چَین ہوجاتا ہے پھر رَفتہ رَفتہ جب عادی ہوجاتا ہے تو قوّتِ برداشت