Brailvi Books

نیک بننے کا نسخہ
13 - 24
 کرے تو کیا اُس پر کچھ مَیل رَہ جائے گا؟ لوگوں  نے عرض کی: اس کے مَیل میں  سے کچھ باقی نہ رہے گا۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: پانچوں  نَماز وں  کی ایسی ہی مثال ہے اللہ تَعَالٰی ان کے سبب خطائیں  مٹا دیتاہے ۔
(مسلم  ص۳۳۶حدیث۶۶۷)
جنّتی ضِیافت
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اِس  ’’ مَدَنی اِنْعام ‘‘ کی رُو سے نَمازیں  بھی مسجِد ہی میں  ادا کرنی ہیں  اورمسجِد کو سُبْحٰنَ اللہِ!  حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:  ’’ جو صبح یا شام مسجِد میں  آئے ، اللہ تَعَالٰی اُس کے لیے جنّت میں  ایک ضِیافت تیّار فرمائے گا۔ ‘‘  
(ایضاً حدیث۶۶۹)
پہلی صَف
      پہلی صف کاذکربھی اِس  ’’ مَدَنی اِنعام ‘‘ میں  موجود ہے۔سرکارِ مکَّۃُ المکرمہ، سردارِ مدینۃُ المنوَّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں :  ’’ لوگ اگر جانتے کہ اذان اور پہلی صَف میں  کیا ہے تو بِغیر قُرعہ ڈالے نہ پاتے لہٰذا اِس کیلئے قُرعہ اندازی کرتے۔ ‘‘ ( مسلم ص۲۳۱حدیث ۴۳۷ ) ایک اورروایت میں  ہے: رَحْمتِ عالَم ، نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ رَحْمت نشان ہے: اللہعَزَّ وَجَلَّاور اس کے فِرِشتے پہلی صف پر دُرُود (یعنی رَحْمت ) بھیجتے ہیں  ، صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:اور دوسری صَف پر؟ فرمایا : اللہعَزَّ وَجَلََّّ اور اس کے فِرِشتے دُرُود بھیجتے ہیں  پہلی صَف پر، صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے پھر عرض کی :