تکبیرِ اولٰی کی فضیلت
مزید اس ’’ مَدَنی اِنعام ‘‘ میں تکبیر ِاُولیٰ کا بھی ذِکر ہے۔ اس کی بھی فضیلت سنئے اور جھومئے ابنِ ماجہ کی روایت میں ہے: سرکار ِمدینۂ منوّرہ ، سردارِ مکّۂ مکرّمہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ جو مسجِد میں باجماعت 40 راتیں نمازِ عشا اس طرح پڑھے کہ پہلی رَکعت فوت نہ ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کیلئے جہنّم سے آزادی لکھ دیتاہے ۔ ‘‘ (ابنِ ماجہ ج۱ص ۴۳۷ حدیث ۷۹۸ ) سُبحٰنَ اللہ! چالیس راتیں جب عشا کی چاروں رکعتیں باجماعت ادا کرنے کی یہ فضیلت ہے تو زندہ رہ جانے کی صورت میں بَرَسْہا برس تک پانچوں نمازیں تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ باجماعت ادا کرنے کا کیا مقام ہوگا!
نَماز میں حج کا ثواب
سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ خوشبودار ہے: ’’ جو طہارت کر کے اپنے گھر سے فرض نَماز کے لیے نکلا اس کا ثواب ایسا ہے جیسا حج کرنے والے مُحرِم (اِحرام باندھنے والے )کا۔ ‘‘ (ابوداوٗد ج۱ص۲۳۱حدیث ۵۵۸ )
دن میں پانچ مرتبہ غسل کی مثال
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے ، سرکارِمدینہ راحت وقلب وسینہ، فیض گنجینہ ، صاحب مُعطّر پسینہ ، باعثِ نُزُولِ سکینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ باقرینہ ہے: بتاؤاگر کسی کے دروازے پر ایک نَہْر ہو جس میں وہ ہر روزپانچ بارغُسل