صُمْتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱)۔۔۔۔۔فاعل کے اعتبار سے فعل کی دو قسمیں ہیں:(۱)معروف:وہ فعل جس کا فاعل معلوم ہو ۔ جیسے :قَامَ زَیْد ٌ میں ''قَامَ''اس کا فاعل (زید)کلام سے معلوم ہورہاہے ۔ (۲) مجہول:وہ فعل جس کا فاعل کلام سے معلوم نہ ہورہاہو۔ جیسے:ضُرِبَ زَیْدٌ میں''ضُرِبَ ''اس کا فاعل (مارنے والا)معلوم نہیں ہورہاہے۔
2۔۔۔۔۔۔مفعول بہ کے لحاظ سے بھی فعل کی دو قسمیں ہیں :(۱)متعدی :وہ فعل جس کا سمجھنا مفعول بہ پر موقوف ہو۔ جیسے:ضَرَبَ زَیْدٌ عَمْرواً میں ضَرَبَ ؛کہ اس کا معنی مفعول بہ کے بغیر سمجھ میں نہیں آتا۔(۲)لازم:وہ فعل جس کا سمجھنا مفعول بہ پر موقوف نہ ہو۔جیسے:قَامَ زَیْد ٌ میں ''قَامَ''؛ کہ یہ مفعول بہ کوچاہتاہی نہیں۔فائدہ:ہر فعل لازم معروف فاعل کو رفع دیتاہے اورچھ اسموں کو نصب دیتاہے۔اورفعل متعدی معروف فاعل کو رفع اور سات اسموں کو نصب دیتاہے ساتواں اسم مفعول بہ ہے۔(ف)فعل لازم مفعول بہ کو نصب نہیں دیتا ؛ کیونکہ اس کا مفعول بہ ہوتاہی نہیں اور فعل مجہول فاعل کو رفع نہیں دیتا ؛کہ اس کا فاعل مذکور نہیں ہوتا۔