اوراس صورت میں جزم تقدیری ہوتاہے ؛ کیونکہ ماضی مبنی ہے۔
یہ بھی خیال رہے کہ جب شرط کی جزا جملہ اسمیہ یا امر یا نہی یا پھر دعا ہوتو جزا میں ''فاء''کا لانا واجب ہے(۱) ۔جیسے:
اِنْ تَأْتِنِیْ فَأَنْتَ مُکْرَمٌ۔ اِنْ رَأَیْتَ زَیْداً فَأَکْرِمْہ،۔ اِنْ اَتَاکَ عَمْرٌو فَلَا تُھِنْہ،۔ اِنْ أَکْرَمْتَنِیْ فَجَزَاکَ اللَّہُ خَیْراً۔
٭٭٭٭٭
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* قُلُوبِکُمْ) لَم کی مثال :(أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ) لام امرکی مثال: (فَلْتَقُمْ طَاءِفَۃٌ) لائے نہی کی مثال:(وَلاَ تَقُمْ عَلَیَ قَبْرِہِ)ان شرطیہ ۔جیسے:(إِن تَنصُرُوا اللَّہَ یَنصُرْکُمْ)۔
1۔۔۔۔۔۔جزا پر فاء لانے یا نہ لانے کا دارومدار کلمہ شرط کی معنوی تاثیر پر ہے اگر وہ جزا کو ماضی سے مستقبل کی طرف تبدیل کردے گا تو چونکہ اس کی تاثیر تام ہے اس لیے جزا ء پر فاء نہیں لائیں گے شرط وجزا میں تعلق کے لیے یہ معنوی تاثیر کافی ہے۔ جیسے:اِنْ ضَرَبْتَ ضَرَبْتُ۔ اور اگر جزا مضارع منفی بـ ''لا'' ہے جس میں حال واستقبال دونوں کا احتمال ہے تو کلمہ شرط نے اس میں کسی قدر اثر کیاہے کہ اسے مستقبل کے ساتھ خاص کردیا، اس لیے فاء کا نہ لانا جائز ہے اور چونکہ ماضی کو مستقبل کے معنی میں نہیں کیا اور تاثیر تام نہیں ہوئی اس لحاظ سے فاء کا لانا بھی جائز ہے۔ جیسے:اِنْ جَاءَ کَ زَیْدٌ لاَ تُکْرِمُہ، یا فَلاَ تُکْرِمُہ،۔ اور اگر کلمہ شرط نے جزا ء میں بالکل اثر نہ کیا تو فاء کا لانا واجب ہے تاکہ شرط وجزا ء میں ربط پردلالت کرے، اس کی چند صورتیں ہیں:(۱)جزا جملہ اسمیہ ہو ۔جیسے:اِنْ تَأتِنِیْ فَاَنْتَ مُکْرَمٌ (اگر تو میرے پاس آئے گا تو تیری عزت کی جائے گی۔) (۲)جزا امر ہو۔ جیسے:اِنْ رَأَیْتَ زَیْداً فَاَکْرِمہ،(اگر تو زید کو دیکھے تو اس کی عزت کرنا۔) (۳)نہی ہو۔ جیسے:اِنْ اَتَاکَ عَمْرٌو فَلاَ تُھِنْہ(اگر عمرو تیرے پاس آئے تو تو اس کی توہین نہ کرنا۔) (۴)دعا ہو۔ جیسے:اِنْ أکْرَمْتَنِیْ فَجَزَاکَ اللہُ خَیْراً(اگر تو میری عزت کرے تو اللہ تعالی تجھے جزائے خیر عطا فرمائے)(ف)شرط اور جزا کا جملہ ہونا ضروری ہے۔