اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھودے اگرقدر اس ( حفظِ قراٰنِ پاک) کی جانتا اور جو ثواب اور دَرَجات اِس پر موعود ہیں (یعنی جن کا وعدہ کیا گیا ہے) ان سے واقف ہوتا تو اسے جان ودل سے زِیادہ عزیز (پیارا) رکھتا۔ مزید فرماتے ہیں : جہاں تک ہو سکے اِس کے پڑھانے اورحفظ کر انے اور خود یاد رکھنے میں کوشش کر ے تا کہ وہ ثواب جو اس پر موعود (یعنی وعدہ کئے گئے) ہیں حاصل ہوں اور بروزِ قیامت اندھا کوڑھی اُٹھنے سے نجات پائے۔ ( فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص۶۴۵، ۶۴۷)
مآخذ و مراجع
کتاب مطبوعہ کتاب مطبوعہ
قراٰن مجید ابن عساکر دار الفکر بیروت
خزائن العرفان مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کر اچی جمع الجوامع دار الکتب العلمیۃ بیروت
بخاری دار الکتب العلمیۃ بیروت غُنیہ سہیل اکیڈمی مرکز الاولیا لاہور
مسلم دار ابن حزم بیروت درمختار وردالْمحتار دار المعرفۃ بیروت
ابوداوٗد دار احیاء التراث العربی بیروت عالمگیری دار الفکر بیروت
ترمذی دار الفکر بیروت فتاوٰی رضویہ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور
ابن ماجہ دار المعرفۃ بیروت بہار شریعت مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کر اچی