Brailvi Books

مسافر کی نماز
14 - 16
شروع کی تھی اور پڑھتے پڑھتے شہرمیں  داخِل ہو گیا تو جب تک گھر نہ پہنچا سُواری پر پوری کر  سکتا ہے۔ (دُرِّمُختار ج۲ص۵۸۹) ٭چلتی گاڑی میں بلاعذرِشَرعی فرض وسنّتِ فجر تمام  و اجبات جیسے وِتر ونذر  (یعنی منَّت) اور وہ نفل جس کو توڑ دیا ہو اور سجدۂ تلاوت جبکہ آیت سجدہ زمین پر تلاوت کی ہو ادا نہیں  کر  سکتا اور اگر عُذر کی وجہ سے ہو تو ان سب میں  شَرط یہ ہے کہ اگر ممکِن ہو تو قبلہ ُرو کھڑا ہوکر  ادا کر ے ورنہ جیسے بھی ممکن ہو اور بعد میں نماز کا اِعادہ کر لے۔  (یعنی دوبارہ پڑھ لے)   (بہارِ شریعت ج۱ص۶۷۳) 
مسافِرتیسری رَکعَت کیلئے کھڑا ہو جائے تو۔۔۔۔۔۔؟ 
	اگر مسافرقصروالی نَمازکی تیسری رَکعَت شروع کر دے تواس کی دوصورَتیں  ہیں :  {۱}  بقدرِ تشہد قَعدۂ اخیرہ کر  چکا تھا تو جب تک تیسری رَکعَت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کر  کے سلام پھیردے اگر نہ لوٹے اور کھڑے کھڑے سلام پھیردے تو بھی نَماز ہو جائے گی مگر سنت ترک ہوئی۔اگر تیسری رَکعَت کا سجدہ کر لیا تو ایک اور رَکعَت ملا کر  سجدۂ سہو کر کے نماز مکمَّل کر ے (ابتدائی دو رکعتیں  فرض اور)  یہ آخری دورَکعتیں  نفل شمار ہوں  گی  {۲}  قعدہ ٔ اخیرہ کیے بغیرکھڑا ہو گیا تھا تو جب تک تیسری رَکعَت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کر کے سلام پھیردے اگرتیسری رَکعَت کا سجدہ کر لیا فرض باطِل ہوگئے، اب ایک اوررَکعَت ملا کر  سجدۂ سہو کر کے نَماز مکمَّل کر ے چاروں  رَکعتیں  نفل شمار ہوں  گی۔  (دورَکعَت فرض ادا کر نے ابھی ذِمے باقی ہیں )               (دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۶۷ ماخوذاً)