Brailvi Books

مسافر کی نماز
13 - 16
اندازاً اُتنی دیر چُپ کھڑا رہے ۔  ( دُرِّمُختار ج۲ص۷۳۵، بہارِ شریعت ج۱ص۷۴۸ ماخوذًا) 
کیا مسافِر کو سُنّتیں  مُعاف ہیں  ؟ 
   سنتوں میں قصرنہیں  بلکہ پوری پڑھی جائیں  گی ، خوف اور رَوارَوی ( یعنی بھاگم بھاگ ۔ گھبراہٹ)  کی حالت میں سنتیں  معاف ہیں  اور اَمن کی حالت میں  پڑھی جائیں  گی ۔ (عالمگیری ج۱ص۱۳۹) 
  ’’ نَماز ‘‘ کے چار حُروف کی نِسبت سے چلتی گاڑی میں  نَفل پڑھنے کے 4 مَدَنی پھول
	٭بیرونِ شہر ( یعنی شہر کے باہرسے مراد وہ جگہ ہے جہاں  سے مسافرپرقصرکر نا واجب ہو تا ہے )  سواری پر ( مَثَلاً چلتی کار، بس، ویگن میں )  بھی نفل پڑھ سکتا ہے اور اس صورت میں  اِستقبالِ قبلہ  (یعنی قبلہ رُخ ہونا)  شرط نہیں  بلکہ سواری  (یا گاڑی)  جس رُخ کو جارہی ہو اُدھرہی منہ ہو اور اگر اُدھر منہ نہ ہو تو نماز جائز نہیں  اور شروع کر تے وقت بھی قبلہ کی طرف منہ ہونا شرط نہیں  بلکہ سُواری (یا گاڑی)  جدھرجارہی ہے اُسی طرف منہ ہو اور رُکوع وسُجُود اِشارے سے کر ے اور  (ضروری ہے کہ)  سجدے کا اِشارہ بہ نسبت رُکوع کے پست ہو ۔  ( یعنی رُکوع کیلئے جس قدر جھکا، سجدے کیلئے اُس سے زیادہ جھکے)   (دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج ۲ ص۵۸۸، بہارِ شریعت ج ۱ ص۶۷۱)   چلتی ٹرین وغیرہ ایسی سواری جس میں  جگہ مل سکتی ہے اُس میں  قبلہ رُخ ہو کر  قاعدے کے مطابِق نوافل پڑھنے ہوں  گی٭گاؤں  میں  رہنے والا جب گاؤں  سے باہرہُوا تو سُواری  (گاڑی)  پرنفل پڑھ سکتا ہے۔  (رَدُّالْمُحتار ج۲ ص ۵۸۸) ٭ بیرونِ شہر  (یعنی شہر کے باہَر) سُواری پر نَماز