قصرکے بدلے چار کی نیّت باندھ لی تو۔۔۔۔۔؟
مسافرنے قصرکے بجائے چار رَکعت فرض کی نیت باندھ لی پھریادآنے پردوپر سلام پھیردیا تونَماز ہوجائے گی ۔اِسی طرح مقیم نے چار رَکعَت فرض کی جگہ دورَکعَت فرض کی نیّت کی اور چار پر سلام پھیراتو اُس کی بھی نَماز ہوگئی ۔ فقہائے کر ام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ نیتِ نماز میں رکعتوں کی تعداد مقررکر ناضروری نہیں کیونکہ یہ ضمناً حاصل ہے۔ نیت میں تعدادمعین ( یعنی مقرّر) کر نے میں خطا ( یعنی بھول) نقصان دِہ نہیں ۔ ‘‘
(دُرِّمُختار ج۲ص۱۲۰)
مسافِراِمام اورمُقیم مُقتدی
اِقتدا دُرُست ہونے کیلئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ امام کامقیم یا مسافرہونا معلوم ہو خواہ نماز شروع کر تے وقت معلوم ہوا یابعد میں ، لہٰذا امام (اگر مسافر ہو تواُس) کو چاہئے کہ شروع کر تے وقت اپنا مسافرہوناظاہرکر دے ، اور شروع میں نہ کہا تو بعد نماز ( یعنی سلام پھیرنے کے بعد) کہہ دے : ’ ’مقیم حضرات اپنی نَمازیں پوری کر لیں کیونکہ میں مسافر ہوں ۔ ‘‘ (دُرِّمُختار ج۲ص۷۳۵) اور شروع میں اعلان کر چکا ہے جب بھی بعد میں کہدے کہ جو لوگ اُس وقت موجود نہ تھے اُنہیں بھی معلوم ہو جائے۔ (بہارِ شریعت ج۱ص ۷۴۹)
مُقیم مُقتدی اوربقیَّہ دو رَکعَتیں
قصروالی نَماز میں مسافرامام کے سلام پھیرنے کے بعدمقیم مقتدی جب اپنی بقیہ نماز ادا کر ے تو فرض کی تیسری اور چوتھی رَ کعَت میں سورۂ فَاتِحہ پڑھنے کے بجائے