جیساکہ بعض لوگ کسی شخصیّت کے جنازے میں کرتے ہیں یہ ناجائز وحرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہی٭چھوٹے بچّے کا جَنازہ اگر ایک شَخص ہاتھ پر اُٹھا کر لے چلے تو حَرَج نہیں اور یکے بعد دیگرے لوگ ہاتھوں میں لیتے رہیں (عالمگیری ج۱ص۱۶۲) عورَتوں کو ( بچّہ ہو یا بڑا کسی کے بھی) جنازے کے ساتھ جانا نا جائز و ممنوع ہے (بہارِ شریعت ج۱ ص۸۲۳، دُرِّمُختار ج۳ص۱۶۲) ٭شوہر اپنی بیوی کے جنازے کو کندھا بھی دے سکتا ہے، قَبْر میں بھی اُتار سکتا ہے اورمُنہ بھی دیکھ سکتا ہے۔ صِرف غسل دینے اوربِلا حائل بدن کو چھُونے کی مُمانَعَت ہے (بہارِ شریعت ج۱ص۸۱۲، ۸۱۳) ٭ جنازے کے ساتھ بُلند آواز سے کلمۂ طیّبہ یا کلمۂ شہادت یا حمد ونعت وغیرہ پڑھنا جائز ہے۔ (دیکھئے: فتاویٰ رضویہ جلد9 صَفْحَہ 139 تا158 )
جنازہ آگے آگے کہہ رہا ہے اے جہاں والو!
مِرے پیچھے چلے آؤ تمہارا رہنما میں ہوں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ہزاروں سنتیں سیکھنے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کتب (۱) 312 صفحات پر مشتمل کتاب ’’ بہارِ شریعت ‘‘ حصّہ16 اور (۲) 120صفحات کی کتاب ’’ سنتیں اور آد ا ب ‘‘ ہد یَّۃً حاصل کیجئے اور پڑھئے۔ سنتوں کی تربیت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوت اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنتوں بھرا سفر بھی ہے۔