Brailvi Books

مردے کے صدمے
34 - 36
چاہیئے٭جنازے کے ساتھ جاتے ہوئے اپنے انجام کے بارے میں سوچتے رہیے کہ جس طرح آج اِسے لے چلے ہیں ، اسی طرح ایک دن مجھے بھی لے جایا جائے گا، جس طرح اِسے منوں مِٹّی تلے دفن کیاجانے والا ہے ، اسی طرح میری بھی تدفین عمل میں لائی جائی گی ۔ اِس طرح غوروفکر کرنا عبادت اور کارِ ثواب ہے ٭جنازے کو کندھا دینا کارِ ثوا ب ہے،  سیّدُ المُرسَلِین،  جنابِ رَحمۃٌ  لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرتِ سیِّدُنا سعد بن مُعاذ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا جنازہ اٹھایاتھا  (الطبقاتُ الکُبرٰی لابن سعد ج۳ص۳۲۹ ،  اَلبِنایہ  ج۳ ص۵۱۷مُلَخَّصاً)  ٭حدیثِ پاک میں ہے:    ’’  جو  جنازہ لے کر چالیس قدم چلے اُسکے چالیس کبیرہ گناہ مٹا دیئے جائیں گے۔   ‘‘  نیز حدیث شریف میں ہے :   ’’  جو جنازے کے چاروں پایوں کو کندھا دے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اُس کی حتمی  (یعنی مُستَقِل )   مغفِرت فر ما دے گا  ‘‘  ( جوہرہص۱۳۹ ،  دُرِّمُختار ج۳ص۱۵۸۔۱۵۹،  بہارِ شریعت ج۱ص۸۲۳)  ٭ سنّت یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے چاروں پایوں کو کندھا دے اور ہر بار دس دس قدم چلے ۔ پوری سنّت یہ ہے کہ پہلے سیدھے سِرہانے کندھا دے پھر سیدھی پائنتی   (یعنی سیدھے پاؤں کی طرف )  پھر اُلٹے سِرہا نے پھر اُلٹی پائِنتی اور دس دس قدم چلے تو کُل چالیس قدم ہوئے۔   (عالمگیری ج۱ص۱۶۲، بہارِ شریعت ج ۱ ص۸۲۲)  بعض لوگ جنازے کے جُلوس میں اِعلان کرتے رہتے ہیں ،  دو دو قدم چلو!  ان کو چاہئے کہ اس طرح اعلان کیا کریں :   ’’ دس دس قدم چلو  ‘‘  ٭ جنازے کو کندھا دیتے وَقْت جان بوجھ کر ایذا دینے والے انداز میں لوگوں کو دھکے دینا