چاہیئے٭جنازے کے ساتھ جاتے ہوئے اپنے انجام کے بارے میں سوچتے رہیے کہ جس طرح آج اِسے لے چلے ہیں ، اسی طرح ایک دن مجھے بھی لے جایا جائے گا، جس طرح اِسے منوں مِٹّی تلے دفن کیاجانے والا ہے ، اسی طرح میری بھی تدفین عمل میں لائی جائی گی ۔ اِس طرح غوروفکر کرنا عبادت اور کارِ ثواب ہے ٭جنازے کو کندھا دینا کارِ ثوا ب ہے، سیّدُ المُرسَلِین، جنابِ رَحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرتِ سیِّدُنا سعد بن مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا جنازہ اٹھایاتھا (الطبقاتُ الکُبرٰی لابن سعد ج۳ص۳۲۹ ، اَلبِنایہ ج۳ ص۵۱۷مُلَخَّصاً) ٭حدیثِ پاک میں ہے: ’’ جو جنازہ لے کر چالیس قدم چلے اُسکے چالیس کبیرہ گناہ مٹا دیئے جائیں گے۔ ‘‘ نیز حدیث شریف میں ہے : ’’ جو جنازے کے چاروں پایوں کو کندھا دے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی حتمی (یعنی مُستَقِل ) مغفِرت فر ما دے گا ‘‘ ( جوہرہص۱۳۹ ، دُرِّمُختار ج۳ص۱۵۸۔۱۵۹، بہارِ شریعت ج۱ص۸۲۳) ٭ سنّت یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے چاروں پایوں کو کندھا دے اور ہر بار دس دس قدم چلے ۔ پوری سنّت یہ ہے کہ پہلے سیدھے سِرہانے کندھا دے پھر سیدھی پائنتی (یعنی سیدھے پاؤں کی طرف ) پھر اُلٹے سِرہا نے پھر اُلٹی پائِنتی اور دس دس قدم چلے تو کُل چالیس قدم ہوئے۔ (عالمگیری ج۱ص۱۶۲، بہارِ شریعت ج ۱ ص۸۲۲) بعض لوگ جنازے کے جُلوس میں اِعلان کرتے رہتے ہیں ، دو دو قدم چلو! ان کو چاہئے کہ اس طرح اعلان کیا کریں : ’’ دس دس قدم چلو ‘‘ ٭ جنازے کو کندھا دیتے وَقْت جان بوجھ کر ایذا دینے والے انداز میں لوگوں کو دھکے دینا