جائے تو اُس کے جنازے میں شریک ہو ( مُسلم حدیث ۵ (۲۱۶۲) ص ۱۱۹۲ مُلَخَّصاً ) (۳) جب کوئی جنّتی شخص فوت ہو جاتا ہے، تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ حَیا فرماتا ہے کہ اُن لوگوں کو عذاب دے جو اِس کاجنازہ لے کر چلے اور جو اِس کے پیچھے چلے اور جنہوں نے اِس کی نمازِ جنازہ ادا کی (اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّاب ج۱ص۲۸۲ حدیث ۱۱۰۸) (۴) بندۂ مؤمِن کو مرنے کے بعدسب سے پہلی جزا یہ دی جائے گی کہ اس کے تمام شرکائے جنازہ کی بخشِش کر دی جا ئے گی (مُسندُ البزار ج ۱۱ ص ۸۶ حدیث۴۷۹۶) ٭حضرتِ سیِّدُنا داوٗد عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بارگاہِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ میں عَرْض کی : یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! جس نے مَحْض تیری رِضا کے لئے جنازے کا ساتھ دیا، اُس کی جزا کیا ہے؟ اللہ تَعَالٰی نے فرمایا: جس دن وہ مرے گا ، فِرِشتے اُس کے جنازے کے ہمراہ چلیں گے اور میں اس کی مغفِرت کروں گا (شَرْحُ الصُّدُور ص ۹۷) ٭حضرتِ سیِّدُنا مالِک بن اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو بعدِوفات کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا: مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا سُلوک فرمایا؟ کہا: ایک کلمے کی وجہ سے بخش دیاجو حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجنازہ دیکھ کر کہا کرتے تھے۔ (وہ کلمہ یہ ہے: )
سُبْحٰنَ الْحَیِّ الَّذِیْ لا یَمُوْت (یعنی وہ ذات پاک ہے جو زندہ ہے اُسے کبھی موت نہیں آئے گی) لہٰذا میں بھی جنازہ دیکھ کر یِہی کہا کرتا تھا، یہ کلِمہ (کہنے ) کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے بَخْش دیا (اِحیاءُ الْعُلوم ج۵ص۲۶۶مُلَخَّصاً) ٭جنازے میں رضائے الٰہی ، فرض کی ادائیگی ، میّت اور اس کے عزیزوں کی دلجوئی وغیرہ اچّھی اچّھی نیّتوں سے شرکت کرنی