تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: (رشتے داروں سے) قَطع تعلُّق کرنے والا جنَّت میں نہیں جائے گا۔ (بُخا ری شریف ج۴ص۹۷حدیث۵۹۸۴) ( ہاں بدعقیدہ رشتے داروں سے تعلّقات نہ رکھے جائیں )
دس فِکر انگیز فَرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
{۱}تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اُس کے ماتَحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (اَلْمُعْجَم الصَّغِیر لِلطّبَرانی ج۱ص۱۶۱)
{۲}جو نگران اپنے ماتَحتوں سے خِیانت کرے وہ جہنَّم میں جائے گا۔ (مسند امام احمد بن حنبل ج۷ص۲۸۴حدیث۲۰۳۱۱)
{۳}جس شخص کو اللہ تَعَالٰی نے کسی رعایا کا نگران بنایا پھر اُس نے ان کی خیر خواہی کا خیال نہ رکھا تووہ جنَّت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔ ( بُخاری ج۴ص۴۵۶حدیث۷۱۵۱)
{۴}اِنصاف کرنے والے قاضی پر قِیامت کے دن ایک ساعَت ایسی آئے گی وہ تمنّا کرے گا کہ کاش ! وہ دو آدمیوں کے درمیان ایک کھجور کے بارے میں بھی فیصلہ نہ کرتا۔ (مَجمعُ الزَّوائد ج۴ص۳۴۸حدیث۶۹۸۶)
{۵} جو شخص دس آدمیوں پر بھی نگران ہو قیامت کے دن اسے اس طرح لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہو گا۔اب یا تو اس کا عدل اسے چھُڑائے گا یا اس کا ظُلم اسے عذاب میں مبتَلاکرے گا۔ (اَلسّنَنُ الکُبرٰی لِلْبَیہَقِی ج ۳ ص ۱۸۴ حدیث ۵۳۴۵)