ہوا کہ وہ شخص فو ت ہو چکا ہے۔ مرحوم کے گھر والوں سے امانت کی معلومات کی تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا، ایک ولیُّ اللّٰہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے حاجی سے فرمایا: آدھی رات کے وقت بیرِزم زم کے قریب اُس شخص کا نام لے کر پکارو، اگر جنّتی ہوا تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ جواب دے گا۔ چُنانچِہ وہ گیا اور زمزم شریف کے کنویں میں آواز دی مگر جواب نہ ملا ، اُس نے جب اُس بُزُرگ کو بتایاتو اُنہو ں نے ’’ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ ‘‘ پڑھ کر فرمایا: ڈر ہے کہ وہ شخص جہنَّمی ہو، مُلکِ یَمَن جاؤ ، وہاں بَرہوت نام کا ایک کُنواں ہے، آدھی رات کے وقْت اُس میں جھانک کر ، اُس آدمی کا نام لے کر پکارو، اگر جہنَّمی ہوا تو جواب دیگا۔ چُنانچِہ اُس نے ایسا ہی کیا، اُس نے جواب دیا۔ تو پوچھا: میری امانت کہاں ہے؟ اُس نے کہا : میں نے اپنے گھر کے اندر فُلاں جگہ دَفن کی ہے جا کر کھود کر حاصِل کر لو۔پوچھا: تم تو نیکی میں مشہور تھے پھر یہ سزاکیسی؟ اُس نے کہا: میری ایک غریب بہن تھی میں نے اُس کو چھوڑ دیا تھا، اس پرشَفْقت نہیں کرتا تھا۔ اللہ تَعَالٰی نے بہن سے قطع تعلّقی کرنے کی مجھے یہ سزا دی ہے۔ (کتاب الکبائر ص۵۳ ، ۵۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیٹا بیٹی، والِدَین ، نانا نانی ، دادا دادی، بھائی بہن، خالہ ماموں ، چچا پھوپھی، وغیرہ رشتے دار ذُو الْاَر حام کہلاتے ہیں ، ان کے ساتھ بِلااجازتِ شَرعی تَعَلُّقات توڑ ڈالنا قَطْعِ رِحمی کہلاتا ہے ۔ قَطْعِ رِحمی حرام اور جہنَّم میں لیجانے والا کام ہے۔ چُنانچِہ اللہ تَعَالٰی کے مَحبوب، دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہ ٌعنِ الْعُیُو ب صَلَّی اللہُ