Brailvi Books

مردے کے صدمے
28 - 36
 اورسنّتوں پر عمل کا ذہن بنے گا نیز عذابِ قبر سے نَجات کا سامان ہو گا۔
دو عبرت ناک حِکایات
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل بات بات پرلوگ رِشتے داریاں کا ٹ کر رکھ دیتے ہیں ،  لہٰذا آپَس میں مَحَبَّت کی فَضا قائم ہونے کی خواہش کی اچّھی نیّت کے ساتھ مزید ثواب کمانے کیلئے رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سُلوک کے ضِمن میں 2 حِکایات مُلا حظہ ہوں ۔
{۱}حکایت: حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہایک مرتبہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی احادیثِ مبارَکہ بیان فرما رہے تھے، اِس دَوران فرمایا:  ہر قاطِع رِحم   (یعنی رشتے داری توڑنے والا)  ہماری محفِل سے اُٹھ جائے۔ ایک نوجوان اُٹھ کر اپنی پُھوپھی کے ہاں گیا جس سے اُس کا کئی سال پُرانا جھگڑا تھا، جب دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو گئے تو اُس نوجوان سے  پُھوپھی نے کہا : تم جا کر اس کا سبب پوچھو،  آخِر ایسا کیوں ہوا؟  (یعنی سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اعلان کی کیا حکمت ہے؟)  نوجوان نے حاضِر ہو کر جب پوچھا تو حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایاکہ میں نے حضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے یہ سنا ہے:  ’’ جس قوم میں قاطِعِ رِحم  (یعنی رشتے داری توڑنے والا)  ہو،  اُس  (قوم)  پراللہ کی  رَحمت کا نُزُول نہیں ہوتا۔  ‘‘    (اَلزَّواجِرُ عَنِ اقْتِرافِ الْکبائِر ج۲ ص۱۵۳) 
 {۲} حِکایت:  ایک حاجی نے کسی دِیانتدار شخص کے پاس مکَّۂ مکرَّمہ میں ایک ہزار دیناربطورِ امانت رکھوائے۔مَناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد  مکَّۂ مکرَّمہ  واپَسی پر معلوم