Brailvi Books

مردے کے صدمے
26 - 36
قَبْر کی روشنی کیلئے
  	  ’’  رَوضُ الرِّیاحِین  ‘‘   میں ہے:  حضرتِ سیِّدُناشَقیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں ،  ہم نے پانچ چیزوں کو پانچ میں پایا{۱} گناہوں کے علاج کو نَمازِ چاشْتْ میں {۲} قبروں کی روشنی کو تہجُّد میں {۳}مُنَکر نکیر کے جوابات کو تلاوتِ قُراٰن میں {۴} پُلْ صِراط پر سے سلامت گزرنے کو روزہ اور صَدَقہ و خیرات میں {۵}حَشر میں سایۂ عَرش پانے کو گوشہ نشینی میں ۔  (مُلَخَّصاً مِنْ شَرْحِ الصُّدُور ص۱۴۶) 
قَبْر کے مد دگار
	حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  جب مُردے کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اُس کے نیک اعمال آکر اُسے گھیر لیتے ہیں ۔ اگر عذاب اُس کے سر کی طرف سے آئے تو تِلاوتِ قراٰن اسے روک لیتی ہے اور اگر پاؤں کی طرف سے آئے تو نَماز میں قِیام کرنا آڑے آجاتا ہے ، اگر ہاتھوں کی طرف سے آئے تو ہاتھ کہتے ہیں :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! یہ ہمیں صَدَقہ دینے اور دعا کیلئے پھیلاتا تھا تم اس تک نہیں پہنچ سکتے،  اگر منہ کی طرف سے آئے تو ذکر اور روزہ سامنے آجاتے ہیں اِسی طرح ایک طرفنَماز اور صبر کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ،  اگر کچھ کسر باقی رہے تو ہم موجود ہیں ۔   (اِحیاءُ الْعُلُوْم ج۵ص۲۵۹) 
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان و اولیائے عُظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی مَحَبَّت و نسبت بھی عذابِ قبر سے بچا لیتی ہے چُنانچِہشرحُ الصُّدور کی دو حِکایات مُلا حظہ ہوں ۔