نیز میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صَحابہ و اَولیاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْنَکے گستاخوں کی دوستی اور ان کی صُحبت میں رَہنا ، اُن کو اُستاد بنانا ، ان کا بیان سننا وغیرہ سب حرام اور جہنَّم میں لے جانے والے کام ہیں اور اگر ان کی نُحُوست سے ایمان برباد ہو گیا تو قَبْر میں گُونا گُوں عذابات کاسامنا ہو گا مَثَلاً قِیامت تک ننانوے خوفناک اَژ دَہے ڈَسیں گے اور جہنَّم میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رَہنا ہو گا۔کافِر کی صُحبت کے باعِث ایمان برباد کربیٹھنے والا بد نصیب مُرتدبروزِ قِیامت حسرت سے خوب واویلا مچا ئیگا ۔ چُنانچِہ پارہ 19 ، سُوْرَۃُ الْفُرْ قَان کی آیت نمبر28 اور29 میں ارشاد ہوتا ہے:
یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا (۲۸) لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْؕ-
ترجَمۂ کنزالایمان: وائے خرابی میری! ہائے! ! کسی طرح میں نے فُلانے کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ بے شک اس نے مجھے بہکادیا میرے پاس آئی ہوئی نصیحت سے ۔
ایمان پر خاتِمہ کا وِرد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گناہوں کے سبب بھی ایمان برباد ہو سکتا ہے۔ لہٰذا گناہوں سے بچتے رَہنا چاہئے ، ایمان کی حفاظت کی دعا سے غفلت نہیں کرنی چاہئے ، جامِعِ شرائط پیر سے بیعت کر کے اُس کی مُستقل دعاؤں کی پناہ میں آجانا چاہئے۔ نیز ایمان کی حفاظت کے اَوراد بھی کرتے رَہنا چاہئے ۔ ’’ شَجَرۂ قادِریہ رضویہ عطّاریہ ‘‘ صَفْحَہ22 پر ایک وِرد لکھا ہے: جو روزانہ صبح ( یعنی آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کرن چمکنے تک کے درمیان کسی بھی