رب عَزَّ وَجَلَّ راضی ہو گیا!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا خوفِ خدا رکھنے والوں کا دَرَجہ بَہُت اونچا ہوتا ہے چُنانچِہ جس رات حضرت سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی وفات ہوئی، اُس رات دیکھا گیا کہ گویا آسمان کے دروازے کُھلے ہیں اور ایک مُنادی اعلان کر رہا ہے: سُنو! حسن بصری بارگاہِ خداوندی عَزَّ وَجَلَّ میں اِس حال میں حاضِر ہوئے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے راضی ہے ۔ (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ج۵ص۲۶۶)
عرش پردھومیں مچیں وہ مومنِ صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھے وہ طیِّب و طاہر گیا
(حدائقِ بخشش شریف)
خوش فَہمی میں مت رہئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو اس خوش فہمی میں ہوتے ہیں کہ میرا عقیدہ بَہُت مضبوط ہے، میں خواہ کُفّار اور بد مذہبوں سے دوستی رکھوں ، چاہے بدعقیدہ لوگوں کا بیان سُنوں ، ان کی کتابیں اور اخبار میں ان کے مضامین پڑھوں خواہ ان کی صُحبَت میں رہوں ، میرا ایمان کہیں نہیں جاتا! خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! ایسے لوگ سَخْت غَلَطی پر ہیں ۔ ’’ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘ میں ہے کہ: جس نے اپنے نَفْس پر اعتماد کیا اُس نے بَہُت بڑے کذَّاب پر اعتماد کیا اوراگرنَفْس کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑا جُھوٹا یِہی ہے۔ ( ماخوذ ازملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ص۲۷۷) دل کے کانوں سے سنئے ! کُفّار اور بد مذہبوں کی