Brailvi Books

مردے کے صدمے
21 - 36
مقاصِد جیسے کہ روزی اور نوکری کے بارے میں دعاؤں کے ساتھ ساتھ خاتمہ بِالخیر اور مغفرت کی دُعائیں کرنے اور کروانے کا بھی ذِہن بنے ۔ ہمارے اَسلاف کوبُرے خاتِمے کا بے حد خوف ہوا کرتا تھا چُنانچِہحضر تِ سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  ایک شخص جہنَّم سے ایک ہزار سال بعد نکا لا جائے گا ۔  (پھر فرمایا)  ’’ کاش!  وہ شخص میں ہوتا۔  ‘‘   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ بات جہنَّم میں ہمیشہ رہنے اوربُرے خاتمے کے خوف سے فرمائی۔  (اَیضاً ج ۴ ص ۲۳۱) 
سہمے سہمے رہنے والے بُزُرگ
	ایک رِوایت میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ چا لیس سال تک نہیں ہنسے ۔ راوی کہتے ہیں :  میں جب ان کو بیٹھا ہوا دیکھتا تو یوں معلوم ہوتا گویا ایک قَیدی ہیں جسے گردن اُ ڑانے کے لیے لایا گیا ہو!  اور جب گفتگو فرماتے تو انداز یہ ہوتاگویا آخِرت کو آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر بتا رہے ہیں ا و ر جب وہ خاموش ہوتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا ان کی آنکھوں کے سامنے  آگ بھڑک رہی ہے!  اِس قدر غمگین وخوفزدہ رَہنے کا جب سبب پوچھا گیا تو فرمایا:  مجھے اِس بات کاخوف ہے کہ اگر اللہ تَعَالٰی نے میرے بعض ناپسند یدہ اعمال کو دیکھ کر مجھ پر غَضَب کیا اور فرمادیا کہ جاؤ میں تمہیں نہیں بخشتا تو میرا کیا بنے گا؟   (ایضاً) 
آہ کثرتِ عصیاں ،  ہائے!  خوف دوزخ کا
کاش !  اِس جَہاں کا میں نہ بَشَر بنا ہوتا