پر زور اور خوب دولت کماؤ کا ہر طرف شور ہے۔ علمِ دین حاصِل کرنے ، نَمازیں پڑھنے اور سنّتوں پر عمل کرنے کیلئے مسلمان تیّار نہیں ، چہرہ ، لباس ، بلکہ تہذیب و تمدُّن سب میں کفّار کی نقّالی کا ذِہن ہے۔ خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ہر وقت فُضول بَک بَک اور گناہوں کی کثرت انتہائی تباہ کُن ہے ، زِیادہ بولتے چلے جانے سے بَسا اوقات زَبان سے کُفریّات بھی نکل جاتے ہیں مگر بولنے والے کو اس کا شُعُور نہیں ہوتا، ایمان کی حفاظت کا ذِہن بھی اب کم ہی لوگوں کا رہ گیا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نہ کرے نافرمانیوں کے باعِث اگر ایمان برباد ہو گیا اور کُفرپر خاتمہ ہوا تو وَاللّٰہ بِاللّٰہ تَاللّٰہ سخت بربادی ہو گی۔ جو کُفر پر مرے گا اُس کے عذابِ قبر کی ایک جھلک مُلا حَظہ فرمائیے۔ چُنانچِہ حُجّۃُ الاسلام حضرت امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِینَقْل کرتے ہیں :
اندھا بہرا چوپایہ
حضرتِ محمد بن مُنْکَدِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فر ماتے ہیں : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ قبر میں کافِرپر اندھا اور بہرا چوپایہ مُسَلَّط کیا جاتا ہے ۔ اُس کے ہاتھ میں لوہے کا ایککوڑا ہوتا ہے۔ وہ اس کوڑے سے کافِر کو قیامت تک مارتا رہے گا۔ (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ج ۵ ص ۲۵۹ مُلَخَّصاً )
کاش! وہ شخص میں ہوتا
ہر مسلمان کو ایمان کی حفاظت کی فِکر کرنی چاہئے اِس کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں سفر کو اپنا معمول بنایئے تا کہ عاشِقانِ رسول کی اچھی صُحبت مُیَسَّر آئے، علم حاصِل ہو، زَبان کی اِحتیاط کا جذبہ ملے اور ایمان کی قَدر و منزِلت دل میں بڑھے اوردُنیوی