Brailvi Books

مردے کے صدمے
18 - 36
سے کہتی ہے:  اے ابنِ آدم ! تُو میرے اندر طویل عرصہ تک اپنے گلنے سڑنے کو کیوں یاد نہیں کرتا؟ یاد رکھ!  میرے اورتیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوگی!   (یعنی تجھے زمین پر بِغیر گدیلے ہی کے رکھ دیا جائے گا! )   (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ج۵ص۲۳۸) 
بَیل کی طرح چیختے
 	حضرتِ سیِّدُنا یزید رَقا شی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ موت کو کثرت سے یاد رکھنے والوں میں سے تھے۔ جب قبروں کو دیکھتے تو قَبْر کے اندھیرے اور تنہائی کی وَحشت وغیرہ کے خوف سے اِس قَدَر بے قرار ہو جاتے کہ آپ کے مُنہ سے بیل کی طرح چیخوں کی آواز نکلتی۔  (ایضاً ص ۲۳۷ ) 
قَبْر میں ڈرانے والی چیزیں 
	 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقِعیقَبْر کامُعامَلہ بے خوف ہونے والا نہیں ،  آج ہم پرچھپکلی چڑھ جائے ،  بلکہکَنکَھجورا قریب ہی سے گزر جائے توشاید بدن پر کپکپی طاری ہو جائے اور منہ سے چیخ نکل جائے ، ہائے!  ہائے!  گناہوں کی وجہ سے اگر خداو مصطَفٰےعَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ناراض ہو گئے تو قَبْر کے تنگ گڑھے میں آ کر کون بچائے گا ،  کون تسلّی دیگا۔ آہ !  آہ!  آہ ! اے بِلّی کی میاؤں سن کر گھبرا جانے والو سنو!  حضرتِ سیِّد ُنا علّامہ جلالُ الدّین سُیوطی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکا فی ’’ شَرحُ الصُّدور  ‘‘   میں نَقْل فرماتے ہیں :    ’’  جب انسان قَبْر میں داخِل ہوتا ہے تو وہ تمام چیزیں اُس کو ڈرانے کیلئے آجاتی ہیں جن سے وہ دنیا میں ڈرتا تھا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے نہ ڈرتا تھا۔  ‘‘    (شَرْحُ الصُّدُور ص۱۱۲)