فرماتے: اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! ان کو جواب دینے میں کوئی رُکاوٹ ہے، آہ ! گویا میں بھی انہیں میں سے ہوں۔ پھر طُلوعِ فَجر تک نوافِل پڑھتے رہتے۔ (ایضاً)
کیڑے رِینگ رہے ہیں
امیرُ المؤ منین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک بار اپنے کسی رفیق سے فرمایا: بھائی! موت کی یاد نے میری نیند اُڑا دی ، میں رات بھر جاگتارہا اور قبر والے کے بارے میں سوچتا رہا ، اے بھائی! اگر تم تین دن بعد مُردے کو اس کی قبر میں دیکھو توایک طویل عرصہ تک زندگی میں اس کے ساتھ رہے ہونے کے باوُجُودتمہیں اُس سے وَحشت ہونے لگے اور اگر تم اس کا گھر یعنی اُس کی قبر کا اندرونی حصّہ دیکھو جس میں کیڑے رینگ رہے اور بدن کو کھا رہے ہیں ، پِیپ جاری ، سخت بدبو آ رہی ہے اور کفن بھی بوسیدہ ہو چکا ہے۔ ہائے! ہائے! غور تو کرو! یہی مردہجس وقت زندہ تھا تو خوبصورت تھا ، خوشبو بھی اچھّی استِعمال کیا کرتا تھا، لباس بھی عمدہ پہناکرتا تھا۔۔۔۔ راوی کہتے ہیں : اتنا کہنے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر رقّت طاری ہو گئی، ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئے۔ (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ج۵ص۲۳۷ مُلَخّصاً)
نَرم نَرم بستر اور قَبْر
حضرتِسیِّدُنا احمدبن حرب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : زمین کو اس شخص پر تَعَجُّب ہوتا ہے جو اپنی خواب گاہ کو دُرُست کرتا اور سونے کے لیے نرم نرم بستر بچھاتاہے۔ زمین اُس