Brailvi Books

مردے کے صدمے
16 - 36
عارِضی قَبْر
	حضرتِ سیِّدُنا رَبِیع بن خُثَیْم  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے اپنے گھر میں ایک قَبْر کھود رکھی تھی۔ جب کبھی اپنے دل میں کچھ سختی پاتے تو اُس کے اندر لیٹ جاتے اور جتنی دیر اللہ تَعَالٰیچاہتا اُس میں ٹھہرے رہتے ۔ پھر پارہ18سُوْرَۃُ الْمُوْمِنُوْنَ کی آیت99 اور 100 کا یہ حصّہ بار بار تلاوت کرتے:   
رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ  (۹۹)  لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ
ترجمۂ کنز الایمان : اے میرے رب! مجھے واپس پھیر دیجئے شایداب میں بھلائی کماؤں اُس میں جو چھوڑ آیا ہوں ۔
پھر اپنے نفس کی طرف مُتَوَجِّہ ہو کر فرماتے:  اے ربیع!  اب تجھے واپس لوٹا دیا گیا ہے۔   (ایضاً ) 
اہلِ قبور کی صُحبت
	حضرتِ سیِّدُنا ابو دَردا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قبروں کے پاس بیٹھے تھے،  اس سلسلہ میں ان سے پوچھا گیا توفرمایا:  میں ایسے لوگوں کے پاس بیٹھا ہوں جو آخِرت کی یاد دلاتے ہیں اور جب اٹھتا ہوں تو میری غیبت نہیں کرتے۔  (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ج۵ص۲۳۷) 
 میں بھی اِنہیں میں سے ہوں 
	حضرتِ سیِّدُنا جعفر بن محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الصَّمَدرات قبرِستان تشریف لے جاتے اور فرماتے:  اے اہلِ قُبور!  کیا بات ہے کہ میں پکارتا ہوں لیکن تم جواب نہیں دیتے ؟ پھر